اسرائیلی حملے غزہ اپ ڈیٹ میں شہداء اور زخمیوں کی صورتحالغزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کے بعد متاثرین کی ہنگامی امداد جاری ہے، 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

غزہ، فلسطین — اسٹار اسٹراک ٹائمز اردو

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں نے کم از کم 13 فلسطینیوں کی جان لے لی ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے امن منصوبے کے تحت پیسا بورڈ (Board of Peace) کا اعلان کرنے والے ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب غزہ اور اسرائیل کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی حالت برقرار ہے، مگر وقفے وقفے سے جھڑپیں اور فضائی آپریشنز جاری ہیں۔ غزہ سیلف ڈیفنس اور مقامی ہسپتال حکام کے مطابق شہداء میں متعدد بچے شامل ہیں اور درجنوں زخمی بھی ہیں۔

اہم نکات

  • اسرائیلی حملوں میں 13 افراد شہید، جن میں 5 بچے شامل ہیں۔
  • جھڑپیں تب ہوئیں جب امن معاہدے کے نفاذ کی نازک صورتحال برقرار ہے۔
  • امریکی صدر ٹرمپ پیسا بورڈ کا اعلان اگلے ہفتے متوقع ہے۔
  • دونوں فریق، اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔

کیا ہوا؟

9 جنوری 2026 کو اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کی مختلف جگہوں پر کم از کم 13 فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں ایک 11 سالہ لڑکی، دو نوجوان لڑکے، اور دیگر شہری شامل ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ میں بے گھر خاندانوں کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے حماس کے عسکری ٹھکانوں اور جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔

شہری ردعمل

غزہ کے مقامی باشندے اور متاثرین نے جنگ بندی کے باوجود جاری حملوں پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایک مقامی باشندہ نے کہا: "ہم نے امن کا خواب دیکھا تھا، مگر حملوں نے ہمارے خواب چکنا چور کردیئے”۔ ایک زخمی شہری نے مزید کہا، "ہمیں تحفظ کہاں ملے گا؟ جنگ بندی صرف کاغذات تک محدود نظر آتی ہے”۔ مقامی خاندان جنگ کی شدت اور مسلسل خوف کے باعث بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ عالمی برادی نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حکومتی اور عالمی ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے طے شدہ امن بورڈ کا اعلان اگلے ہفتے کرنے والے ہیں، جس کا مقصد جنگ بندی کی نگرانی، حماس سے ہتھیار ڈالوانا، اور ایک تکنیکی فلسطینی حکومت کا قیام ہے۔ یورپی یونین اور مصر نے بھی معاہدے کے تحت بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کے تعینات پر زور دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، تاہم پیش رفت انتہائی سست رہی ہے۔

اس کا مطلب کیا ہے؟

یہ تازہ جھڑپیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی نازک اور مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ امن منصوبہ جو بڑے بین الاقوامی مبصرین بشمول یو این اور یورپی یونین کی زیر نگرانی ہے، اسے مضبوطی سے نافذ کرنا چیلنج بن چکا ہے۔ میڈیا تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر جنگ بندی پر سخت عملدرآمد نہ ہوا تو یہ خطہ مزید تشدد کا شکار ہوسکتا ہے۔

پس منظر اور ماضی کے تقابل

غزہ اور اسرائیل کے درمیان موجودہ معاہدہ اکتوبر 2025 میں طے پایا تھا، جس کے باوجود وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔ گزشتہ برسوں میں اسی طرح کی کارروائیوں میں سیکڑوں عام شہری مارے جاچکے ہیں، جس نے انسانی بحران کو سنگین صورت دی ہے۔ اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق کے گروپوں نے کثرت سے فوری اور پائیدار جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔


آگے کیا ہو گا؟

غزہ میں امن کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ اگر پیسا بورڈ کے اقدامات مؤثر طریقے سے نافذ ہو گئے، تو ممکن ہے کہ جنگ بندی کے عمل میں بہتری آئے، تاہم فی الحال جھڑپیں اور فضائی حملوں کے خدشات برقرار ہیں۔ بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے تاکہ فوری انسانی امداد اور بے گھر شہریوں کی مدد کی جائے۔


اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: غزہ میں حملے کیوں دوبارہ شروع ہوئے؟
جواب: اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یہ حملے حماس کے جانب سے کیے گئے سرحد پار حملوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ حماس نے بھی اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

سوال: پیسا بورڈ کیا ہے؟
جواب: پیسا بورڈ ایک امریکی انتظامی کمیٹی ہے جسے صدر ٹرمپ نے غزہ امن عمل کی نگرانی کے لیے تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، جس میں جنگ بندی، ہتھیار ڈالنا اور تکنیکی حکومت کا قیام شامل ہے۔

سوال: کتنی بارشیں یا فضائی حملے پہلے ہوچکے ہیں؟
جواب: جنگ بندی کے باوجود حالیہ برسوں میں متعدد حملے اور فضائی کارروائیاں ہوچکی ہیں، جس میں سیکڑوں عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوال: عالمی برادری نے کیا ردعمل دیا؟
جواب: یورپی یونین، مصر اور متعدد ممالک نے بین الاقوامی فورس تعینات کرنے اور جنگ بندی کے نفاذ پر زور دیا ہے، جبکہ انسانی حقوق گروپوں نے شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔


مزید تازہ ترین خبریں اور گہرائی سے تجزیے کے لیے اسٹار اسٹراک ٹائمز اردو پڑھنا جاری رکھیں۔

ذرائع:

  • ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)
  • اے ایف پی / اردو پوائنٹ
  • رائٹرز
  • ہریئت ڈیلی نیوز

By M Muzamil Shami

ایم مزمل شامی اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے بانی، مصنف اور نیوز رائٹر ہیں۔ انہوں نے صحافت، شوبز اور بین الاقوامی خبریں کور کرنے میں کئی سال کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم مزمل شامی کا مقصد قارئین کو تازہ ترین، مستند اور دلچسپ خبریں بروقت فراہم کرنا ہے۔ وہ نہ صرف خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ تحریر اور تجزیے کے ذریعے قارئین کو گہرائی میں معلومات پہنچانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہر عمر اور دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے موزوں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے