بلیک مون 2027 فلکیاتی واقعہاگلا بلیک مون 31 اگست 2027 کو ہوگا، فلکیاتی شائقین کے لیے نایاب موقع

کراچی، پاکستان — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو


فلکیات کے شائقین اور آسمان کے دیکھنے والے افراد کے لیے ایک خاص قمری واقعہ جسے “بلیک مون” کہا جاتا ہے، اگلا بار 31 اگست 2027 کو رونما ہوگا۔ بلیک مون ایک نایاب قمری مرحلہ ہے جس میں ایک کیلنڈر ماہ میں دو نیا چاند (New Moon) آتے ہیں یا ایک موسمی سیزن میں غیر معمولی تعداد میں نیا چاند آجاتے ہیں۔ چونکہ یہ چاند کی تاریکی والی حالت ہے، اس لیے زمین سے اسے نظر نہیں آتا، مگر اس کا ستاروں اور کہکشاں کے مشاہدے پر اثر پڑتا ہے۔ فلکیات دان اس موقع کو سٹار گیزنگ کے لیے بہترین وقت سمجھتے ہیں کیونکہ چاند کی روشنی نہیں ہوتی۔


اہم نکات

  • بلیک مون ایک فلکیاتی واقعہ ہے جو اگست 31، 2027 کو ہوگا۔
  • اس کا نام “بلیک مون” ہے، مگر یہ سائنس میں کوئی باقاعدہ اصطلاح نہیں۔
  • وہ لمحہ جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آتا ہے، تب وہ فلکیاتی طور پر نیا چاند کہلاتا ہے۔
  • یہ واقعہ زمین سے نظر نہیں آتا، اس لیے ستاروں اور کہکشاں کے مشاہدے کے لیے خصوصی مواقع فراہم کرتا ہے۔

بلیک مون کیا ہے؟

بلیک مون فلکیات میں وہ خاص حالت ہے جب چاند “نیو مون” کی حالت میں ہوتا ہے۔ نیو مون وہ مرحلہ ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آتا ہے اور اس کا روشن حصہ زمین کی طرف نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک بلیک مون اُس وقت ہوتا ہے جب ایک ماہ میں دو نیو مون وقوع پذیر ہوں۔ دوسری تعریف کے مطابق، اگر موسم میں چار نیو مون آ جائیں، تو ان میں سے تیسرا نیو مون بلیک مون کہلاتا ہے۔ ‍یہ اصطلاح رسمی فلکیاتی اصطلاح نہیں ہے لیکن مقبول طور پر استعمال ہوتی ہے۔


عوام اور ماہرین کا ردعمل

فلکیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک مون کو “مستقبل کی پیشگوئی” یا “قدرتی آفات” سے جوڑنا غلط فہمی ہے۔ جیسا کہ مشہور آسمانی تجزیہ کار جو راؤ نے کہا، “یہ ایک معمول کا قمری مرحلہ ہے جسے کیلنڈر کی ترتیب اور چاند کے گردش کے فرق کی وجہ سے خصوصی لقب ملا ہے۔”

ایک آسترو فزکس کے طالب علم نے کہا: “جب چاند روشنی نہیں دیتا تو اس دوران تاروں اور کہکشاں کا منظر اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔”

بعض لوگوں نے سوشل میڈیا پر اظہار حیرت کیا کہ وہ تارے اور “ملکی وے” جیسی کهکشاؤں کو بهترین روشنی کے بغیر دیکھ سکیں گے۔


یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟

بلیک مون کے واقعہ کا علمی اہمیت چاند کے گردش اور زمین کے کیلنڈر کے نظام پر مبنی ہے۔ شمسی کیلنڈر اور قمری چاند کے میل نہ کھانے کی وجہ سے کبھی کبھار یہ نایاب مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بلیک مون ایک موقع فراہم کرتا ہے جس میں رات کے آسمان پر فلکیاتی مشاہدے بہتر طریقے سے کیے جا سکتے ہیں کیونکہ نیو مون کے دوران چاند کی روشنی نہیں ہوتی۔


تاریخ اور پچھلے واقعات

گزشتہ بلیک مون دسمبر 30، 2024 کو ہوا تھا۔ اس وقت بھی دو نیو مون ایک ہی ماہ میں واقع ہوئے تھے۔ اگلا نایاب بلیک مون 31 اگست 2027 کو ہو گا، جسے “ماہانہ بلیک مون” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اسی ماہ میں دو نیو مون واقع ہو رہے ہیں۔


مستقبل میں کیا ہو گا

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اگلے بلیک مون کے بعد آسمان شائقین کو تاروں اور دیگر آسمانی اشیاء کے بارے میں مزید تجربات کا موقع ملے گا۔ چونکہ چاند بہت کم روشنی فراہم کرے گا، اس لیے آس پاس کے ستاروں کا منظر اور بھی واضح دیکھا جا سکے گا۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: بلیک مون کب ہوتا ہے؟
جواب: بلیک مون تب ہوتا ہے جب کیلنڈر کے ایک ہی ماہ میں دو نیو مون آ جائیں یا ایک موسم میں چار نیو مون ہو جائیں، اور یہ نایاب ہوتا ہے۔

سوال: کیا بلیک مون نظر آتا ہے؟
جواب: بلیک مون نظر نہیں آتا کیونکہ اس کے دوران چاند زمین کی طرف روشن حصہ نہیں دکھاتا اور وہ سورج اور زمین کے بیچ میں ہوتا ہے۔

سوال: کیا بلیک مون کا اثر زمین پر ہوتا ہے؟
جواب: سائنسی لحاظ سے اس کا کوئی براہِ راست جسمانی اثر نہیں ہوتا، مگر یہ فلکیاتی مشاہدے کے لیے اہم موقع ہوتا ہے۔

سوال: بلیک مون کا نام کیوں رکھا گیا؟
جواب: اس نایاب واقعہ کو بلیک مون کہا جاتا ہے کیونکہ چاند زمین کی طرف مکمل طور پر تاریک پہلو دکھاتا ہے، مگر یہ نام فلکیاتی اصطلاح نہیں بلکہ عوامی لقب ہے۔


مزید تازہ ترین خبروں اور فلکیاتی واقعات کے لیے ہماری ویب سائٹ اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کا دورہ کریں۔

ذرائع:

  • ٹائم اینڈ ڈیٹ
  • سپیس ڈاٹ کام
  • نیشنل جیوگرافک

By M Muzamil Shami

ایم مزمل شامی اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے بانی، مصنف اور نیوز رائٹر ہیں۔ انہوں نے صحافت، شوبز اور بین الاقوامی خبریں کور کرنے میں کئی سال کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم مزمل شامی کا مقصد قارئین کو تازہ ترین، مستند اور دلچسپ خبریں بروقت فراہم کرنا ہے۔ وہ نہ صرف خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ تحریر اور تجزیے کے ذریعے قارئین کو گہرائی میں معلومات پہنچانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہر عمر اور دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے موزوں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے