سلطان عبدالحمید ثانی کا پورٹریٹ عثمانی بادشاہسلطان عبدالحمید ثانی، 34ویں عثمانی سلطان جنہوں نے اسلامی تاریخ کے اہم دور میں حکومت کی۔

کراچی، پاکستان — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو

تعارف

سلطان عبدالحمید ثانی عثمانی سلطنت کے ان حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے بارے میں آج بھی شدید اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ کچھ مورخین انہیں "آخری عظیم عثمانی سلطان” قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض مغربی مصنفین ان پر آمرانہ طرزِ حکومت کا الزام لگاتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے سب سے نازک دور میں تقریباً 33 سال تک حکومت کی اور ایک ایسی سلطنت کو سنبھالے رکھا جس کے خاتمے کی پیش گوئیاں یورپ کے بڑے سیاسی حلقے بار بار کر رہے تھے۔

ان کا دور حکومت نہ صرف عثمانی تاریخ بلکہ عالمِ اسلام کی جدید تاریخ میں بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ فلسطین، خلافت، حجاز ریلوے، یورپی استعمار، مسلم اتحاد اور جدید تعلیم جیسے موضوعات پر ان کے فیصلوں کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔


پیدائش اور خاندانی پس منظر

سلطان عبدالحمید ثانی 21 ستمبر 1842 کو استنبول میں پیدا ہوئے۔

ان کے والد سلطان عبدالمجید اول تھے جو سلطنت عثمانیہ کے 31ویں سلطان تھے۔ ان کی والدہ تیرمژگان سلطان تھیں، جن کا انتقال عبدالحمید کی کم عمری میں ہی ہو گیا تھا۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کی پرورش محل کے اندر دوسری شاہی خواتین نے کی۔

بچپن ہی سے عبدالحمید ذہین، مشاہدہ کرنے والے اور سنجیدہ مزاج کے مالک تھے۔ انہیں ادب، تاریخ، سیاست، فقہ، عربی، فارسی اور عثمانی زبان کی تعلیم دی گئی۔ بعد میں انہوں نے فرانسیسی زبان بھی سیکھی۔


نوجوانی اور شخصیت

دیگر عثمانی شہزادوں کے برعکس عبدالحمید ثانی محض شاہی تقریبات میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ وہ مالیات، ریاستی امور اور بین الاقوامی سیاست کا گہرا مطالعہ کرتے تھے۔

ان کی شخصیت کی چند نمایاں خصوصیات:

  • غیرمعمولی سیاسی بصیرت
  • مضبوط یادداشت
  • محتاط فیصلہ سازی
  • مذہبی وابستگی
  • انتظامی صلاحیت
  • سفارتی ذہانت

بعد کے برسوں میں یہی خصوصیات ان کی حکومت کی بنیاد بنیں۔


تخت نشینی

1876 میں سلطنت عثمانیہ شدید سیاسی اور معاشی بحران کا شکار تھی۔

چند ہی مہینوں میں دو سلاطین تبدیل ہوئے:

  • سلطان عبدالعزیز
  • سلطان مراد پنجم

مراد پنجم کی صحت خراب ہونے کے بعد 31 اگست 1876 کو عبدالحمید ثانی عثمانی سلطنت کے 34ویں سلطان بنے۔

اس وقت سلطنت اندرونی بغاوتوں، یورپی دباؤ اور معاشی مشکلات سے دوچار تھی۔


عثمانی آئین اور پارلیمنٹ

تخت نشینی کے فوراً بعد عبدالحمید ثانی نے عثمانی تاریخ کا پہلا آئین نافذ کیا۔

1876 میں:

  • پارلیمنٹ قائم ہوئی
  • آئینی حکومت کا آغاز ہوا
  • جدید سیاسی اصلاحات متعارف ہوئیں

لیکن روس کے ساتھ جنگ اور سیاسی بحران کے بعد 1878 میں پارلیمنٹ معطل کر دی گئی۔

اسی فیصلے پر بعد میں ان کے مخالفین نے انہیں "مطلق العنان” قرار دیا۔


روس-عثمانیہ جنگ

1877-78 کی روسی جنگ ان کے ابتدائی دور حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔

عثمانی فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجے میں:

  • بلغاریہ کو خودمختاری ملی
  • سربیا اور رومانیہ مضبوط ہوئے
  • روس کا اثر بڑھا

یہ جنگ عثمانی سلطنت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی۔


فلسطین اور صہیونی تحریک

سلطان عبدالحمید ثانی کا نام فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

انیسویں صدی کے آخر میں صہیونی تحریک کے بانی Theodor Herzl نے فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے لیے عثمانی حکومت سے رابطہ کیا۔

تھیوڈور ہرزل نے سلطنت کے قرضے ادا کرنے اور مالی مدد فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔

لیکن عبدالحمید ثانی نے فلسطین فروخت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا:

"میں فلسطین کا ایک انچ بھی فروخت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ میری ملکیت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی امانت ہے۔”

یہ موقف آج بھی ان کے حامیوں کے نزدیک ان کی سب سے بڑی تاریخی خدمات میں شمار ہوتا ہے۔


پین اسلامزم کی پالیسی

عبدالحمید ثانی سمجھتے تھے کہ یورپی طاقتوں کا مقابلہ صرف مسلم اتحاد سے ممکن ہے۔

اسی لیے انہوں نے:

  • خلافت کے تصور کو مضبوط کیا
  • ہندوستان، وسط ایشیا اور افریقہ کے مسلمانوں سے روابط بڑھائے
  • خود کو تمام مسلمانوں کے روحانی رہنما کے طور پر پیش کیا

ان کی اس پالیسی کو "پین اسلامزم” کہا جاتا ہے۔


حجاز ریلوے: ان کا عظیم ترین منصوبہ

سلطان عبدالحمید ثانی کے دور کا سب سے مشہور ترقیاتی منصوبہ حجاز ریلوے تھا۔

منصوبے کے مقاصد

  • حجاج کرام کے سفر میں آسانی
  • فوجی نقل و حرکت میں بہتری
  • سلطنت کے دور دراز علاقوں کو جوڑنا

1900 میں منصوبے کا آغاز ہوا۔

چند سالوں میں ریلوے:

  • دمشق
  • اردن
  • مدینہ منورہ

تک پہنچ گئی۔

یہ منصوبہ بڑی حد تک مسلمانوں کے چندوں سے مکمل کیا گیا۔

آج بھی حجاز ریلوے کو عثمانی انجینئرنگ کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔


تعلیم اور جدید ترقی

عبدالحمید ثانی کو صرف مذہبی رہنما سمجھنا تاریخی غلطی ہوگی۔

ان کے دور میں:

  • سینکڑوں اسکول قائم ہوئے
  • طبی کالج بنائے گئے
  • انجینئرنگ ادارے کھولے گئے
  • ٹیلی گراف نظام وسیع کیا گیا
  • ریلوے نیٹ ورک بڑھایا گیا

ان کے دور میں تعلیم کا دائرہ سلطنت کے تقریباً تمام حصوں تک پھیل گیا۔


خفیہ نگرانی کا نظام

سلطان عبدالحمید ثانی اپنی محتاط طبیعت کی وجہ سے ایک وسیع انٹیلی جنس نیٹ ورک چلاتے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ:

  • یورپی طاقتیں سلطنت کو توڑنا چاہتی ہیں
  • اندرونی بغاوتیں بڑھ رہی ہیں
  • خفیہ تنظیمیں سرگرم ہیں

اسی وجہ سے انہوں نے ایک مضبوط نگرانی کا نظام قائم کیا۔

مخالفین نے اسی بنیاد پر ان پر آمرانہ طرز حکومت کا الزام لگایا۔


یلدز محل

سلطان عبدالحمید ثانی نے اپنی حکومت کا زیادہ تر وقت استنبول کے مشہور یلدز محل میں گزارا۔

Yıldız Palace اس دور میں سلطنت عثمانیہ کا سیاسی مرکز بن گیا تھا۔

یہیں سے:

  • سفارتی فیصلے
  • فوجی منصوبے
  • ریاستی اصلاحات

تیار کی جاتی تھیں۔


معزولی

1908 میں "ینگ ترک” تحریک نے عثمانی سیاست میں بڑی تبدیلی پیدا کی۔

1909 میں:

  • فوجی بغاوت ہوئی
  • پارلیمنٹ نے عبدالحمید ثانی کو معزول کر دیا
  • ان کے بھائی سلطان محمد پنجم تخت نشین ہوئے

یہ عثمانی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔


جلاوطنی کے سال

معزولی کے بعد عبدالحمید ثانی کو یونان کے شہر تھیسالونیکی بھیج دیا گیا۔

بعد میں انہیں واپس استنبول منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال نسبتاً تنہائی میں گزارے۔

اس دوران وہ:

  • مطالعہ کرتے
  • لکڑی کا کام کرتے
  • سیاسی حالات پر نظر رکھتے

رہے۔


وفات

10 فروری 1918 کو سلطان عبدالحمید ثانی کا انتقال ہوا۔

اس وقت پہلی جنگ عظیم جاری تھی اور سلطنت عثمانیہ اپنے آخری ایام میں داخل ہو چکی تھی۔

ان کی عمر 75 سال تھی۔


مزار

سلطان عبدالحمید ثانی کو استنبول میں واقع محمود ثانی کے مقبرے میں دفن کیا گیا۔

Tomb of Mahmud II آج بھی عثمانی تاریخ کے شائقین، محققین اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔


تاریخ کا فیصلہ

سلطان عبدالحمید ثانی کے بارے میں رائے آج بھی منقسم ہے۔

ان کے ناقدین کہتے ہیں:

  • انہوں نے جمہوری عمل محدود کیا
  • سیاسی آزادیوں کو دبایا

جبکہ ان کے حامی کہتے ہیں:

  • انہوں نے سلطنت کو ٹوٹنے سے بچایا
  • فلسطین کے مسئلے پر مضبوط موقف اپنایا
  • مسلم اتحاد کو فروغ دیا
  • جدید تعلیم اور انفراسٹرکچر کو ترقی دی

نتیجہ

سلطان عبدالحمید ثانی ایک پیچیدہ مگر غیرمعمولی شخصیت تھے۔ وہ ایک ایسے دور کے حکمران تھے جب یورپی سامراج عروج پر تھا اور عثمانی سلطنت مسلسل دباؤ کا شکار تھی۔ ان کے فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی سیاسی بصیرت، مسلم دنیا کے لیے فکر، اور سلطنت عثمانیہ کو بچانے کی جدوجہد انہیں تاریخ کے اہم ترین مسلم حکمرانوں میں شامل کرتی ہے۔

آج، ان کی وفات کے ایک صدی سے زیادہ عرصہ بعد بھی، ان کا نام فلسطین، خلافت، مسلم اتحاد اور عثمانی تاریخ کے مباحث میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور یہی ان کے تاریخی اثر و رسوخ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

By M Muzamil Shami

ایم مزمل شامی اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے بانی، مصنف اور نیوز رائٹر ہیں۔ انہوں نے صحافت، شوبز اور بین الاقوامی خبریں کور کرنے میں کئی سال کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم مزمل شامی کا مقصد قارئین کو تازہ ترین، مستند اور دلچسپ خبریں بروقت فراہم کرنا ہے۔ وہ نہ صرف خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ تحریر اور تجزیے کے ذریعے قارئین کو گہرائی میں معلومات پہنچانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہر عمر اور دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے موزوں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے