واشنگٹن، امریکہ — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو
ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ اینجلینا جولی نے منی سوٹا کے شہر منییاپولیس میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنٹس کی فائرنگ سے نرس ایلکس پریٹی کے قتل کے بعد جاری احتجاجات کی حمایت میں انسٹاگرام پر اظہار خیال کیا، جس نے عالمی سطح پر شہرت یافتہ شخصیات کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید اور عوامی ردِعمل کو نئی جہت دی ہے۔ یہ واقعہ جنوری 2026 میں پیش آیا اور امریکی شہروں میں بڑے مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں جس نے ملک گیر بحث کو جنم دیا ہے کہ وفاقی امیگریشن پالیسیوں کا انسانی حقوق اور حفاظت پر کیا اثر ہے۔
اہم نکات:
• ہالی ووڈ اسٹار اینجلینا جولی نے انسٹاگرام پر منییاپولیس واقعے کی ویڈیو شیئر کی اور آواز اٹھائی۔
• متعدد مشہور شخصیات سمیت بلّی ایلیش، جینیفر اینِسٹن، ناتالی پورٹ مین نے بھی ICE کے خلاف اظہارِ احتجاج کیا۔
• منییاپولیس سمیت دیگر شہروں میں احتجاجات جاری ہیں جن میں شہریوں نے امریکہ بھر میں ICE کی پالیسیوں کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔
• منی سوٹا کے وفاقی جج نے ICE کے قائم مقام سربراہ کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔
• اس واقعے نے امریکہ میں امیگریشن، انسانی حقوق اور وفاقی قوتوں کے استعمال پر ملکی بحث کو شدت سے متحرک کیا ہے۔
واقعہ کیا ہوا؟ حقائق، تاریخ، مقام
جنوری 2026 میں منییاپولیس، ریاست منی سوٹا میں وفاقی امیگریشن ایجنٹس کی فائرنگ سے ایلکس پریٹی نامی نرس ہلاک ہو گئی، جس کے بعد ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پریٹی ایک ICU نرس تھے جنہوں نے ایک خاتون کی مدد کے دوران واقعے کی ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر شئیر کی، جس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ان کی موت ہو گئی۔
اینجلینا جولی نے انسٹاگرام اسٹوری پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ماری ٹرنر، جو قومی نرسز یونائیٹڈ (NNU) کی صدر ہیں، پریٹی کے قتل کی جگہ پر بیانات دیتے ہوئے دیکھائی دیں اور کہا کہ "ہمیں اب کافی ہے”۔
عوامی ردِعمل اور سرکاری مؤقف
اس واقعے پر عوامی اور مشہور شخصیات کا شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ جینیفر اینِسٹن، بلّی ایلیش اور ناتالی پورٹ مین سمیت کئی سرگرم شخصیات نے اپنے پلیٹ فارمز پر اظہارِ احتجاج کیا اور ICE کی کارروائیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
ماہرین میڈیا کا کہنا ہے کہ "اس قسم کے واقعات امریکی پالیسی اور انسانی حقوق کے تناظر میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی ناراضگی حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔”
دوسری طرف، سرکاری ردِعمل میں یہ کہا گیا ہے کہ ICE صرف قانونی دائرہ کار میں کام کر رہا ہے اور ہر واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ وفاقی جج نے ICE کے قائم مقام ڈائریکٹر کو عدالت میں طلب کیا ہے تاکہ ضمانت کے سماعت سے متعلق وضاحت فراہم کی جائے، جس سے پالیسیوں کی قانونی جانچ پڑتال بھی شروع ہو رہی ہے۔
کیوں اہم ہے؟ سماجی، ثقافتی اور سیاسی اثرات
یہ واقعہ امیگریشن، وفاقی طاقتوں اور شہری آزادیوں کے تعلق سے امریکہ میں بڑھتی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے واقعات عوامی شعور اور پالیسی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر جب مشہور شخصیات بھی کھل کر آواز اٹھائیں۔
فلم اور میڈیا تجزیہ کار کہتے ہیں کہ "جب عالمی شہرت یافتہ شخصیات انسانی حقوق کے موضوعات پر کھل کر بات کرتی ہیں تو اس سے عوام کی توجہ ان موضوعات کی جانب بڑھتی ہے اور سرکاری اقدامات پر سوالات اٹھتے ہیں۔”
اسی طرح کے ماضی کے حالات
گزشتہ ہفتوں میں بھی ICE کے اقدامات پر مظاہرے ہوئے، خاص طور پر شکاگو اور دیگر شہروں میں احتجاجات ہوئے جن میں شہریوں نے ICE کی پالیسیوں کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔
نتیجہ: آئندہ کیا ہو گا؟
امریکی عدالت میں ICE کے سربراہ کو طلب کرنے کے بعد ممکنہ قانونی سماعتیں ہو سکتی ہیں، جبکہ عوامی سطح پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس واقعے پر مزید تحقیقات اور مباحثیں جاری رہیں گی اور امکان ہے کہ امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلیوں کے لیے سیاسی دباؤ بڑھے گا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
1. یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا؟
یہ واقعہ جنوری 2026 میں منییاپولیس، ریاست منی سوٹا میں پیش آیا، جہاں وفاقی امیگریشن ایجنٹس کی فائرنگ میں ایک نرس ہلاک ہو گئی تھی۔
2. اینجلینا جولی نے اس واقعے پر کیا کہا؟
جولی نے انسٹاگرام پر مظاہروں میں بولنے والی نرس کی ویڈیو شیئر کی، احتجاج کی حمایت کی اور انسانی حقوق پر زور دیا۔
3. عوامی ردِعمل کیا رہا؟
متعدد شہرت یافتہ شخصیات نے ICE کی پالیسیاں تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے۔
4. کیا سرکاری ردِعمل ملا ہے؟
منی سوٹا کے وفاقی جج نے ICE کے سربراہ کو عدالت میں طلب کیا ہے جبکہ سرکاری موقف میں کہانی کی قانونی جانچ جاری ہے۔
5. اس واقعے کا معاشی یا سیاسی اثر کیا ہو سکتا ہے؟
یہ واقعہ امریکی امیگریشن قوانین اور انسانی حقوق کے حوالے سے پالیسی مباحث کو فروغ دے سکتا ہے، خاص طور پر جب عدالت اور عوامی ردِعمل سامنے آئے۔
مزید تازہ ترین خبریں اور تجزیات کے لیے اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو پر ہماری خبر پڑھتے رہیں۔
ذرائع:
• The News Digital
• BP Daily
• Islam Times
• Jang







