شام کا خفیہ ایٹمی مواد منتقل کرنے کا عالمی معاہدہ: ‘سائٹ 99’ پر اسرائیل، امریکا اور نئی شامی حکومت کا بڑا بریک تھرو
واشنگٹن، امریکا، 11 اگست 2026 — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک انتہائی حساس اور تاریخی موڑ پر، امریکا، اسرائیل اور شام کی نئی عبوری حکومت کے درمیان جاری مہینوں طویل خفیہ سفارتی مذاکرات بالآخر کامیاب ہو گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور عالمی موثر پورٹلز کی رپورٹس کے مطابق، شام کے ایک نہایت حساس اور خفیہ مقام ’’سائٹ 99‘‘ (Site 99) پر موجود مہلک نیوکلیئر مواد کو فوری طور پر غیر ملکی تحویل میں دینے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اقوامِ متحدہ کا ایٹمی توانائی کا عالمی ادارہ (IAEA) اس مواد کو اپنے قبضے میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کرے گا، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ پر منڈلاتا ایک بڑا نیوکلیئر تصادم کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔
اہم نکات
- تاریکی سے روشنی تک: سائٹ 99 پر موجود خفیہ ایٹمی مواد اب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے کنٹرول میں دیا جائے گا۔
- اسرائیلی الٹی میٹم: اسرائیل نے واضح دھمکی دی تھی کہ اگر مواد فوری نہ ہٹایا گیا تو سائٹ 99 کو تباہ کر دیا جائے گا۔
- ٹرمپ انتظامیہ کا کردار: واشنگٹن نے تل ابیب کو فوری فوجی کارروائی سے روکا اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
- تاریخی پس منظر: الکِبار ری ایکٹر پر 2007 کی اسرائیلی بمباری کے بعد بچ جانے والا یہ مواد بشار الاسد حکومت کے سقوط کے بعد بے نقاب ہوا تھا۔
- ترکیہ کا پہلو: اسرائیلی انٹیلی جنس کو خدشہ تھا کہ علاقائی صف بندی کے باعث ترکیہ بھی اس مواد تک رسائی کی کوشش کر سکتا ہے۔
خفیہ سفارت کاری اور ‘سائٹ 99’ کی مکمل کہانی
بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ جہاں شام کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوا، وہیں اس کے ساتھ ہی اسد دور کے کئی ہولناک اور خفیہ راز بھی عالمی برادری کے سامنے آ گئے۔ انہی میں سے ایک سب سے بڑا خطرہ ’’سائٹ 99‘‘ پر موجود نیوکلیئر مواد تھا۔ اسد حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں دمشق کی آڑ میں ایک انتہائی خفیہ ایٹمی پروگرام پر کام کیا تھا، جس کا ایک اہم حصہ الکِبار کا ری ایکٹر تھا جسے اسرائیل نے 2007ء میں ایک سنسنی خیز فضائی کارروائی میں تباہ کر دیا تھا۔
تاہم الکِبار ری ایکٹر کی تباہی کے باوجود، ایٹمی تیاریوں کے لیے درکار اہم تابکار اور نیوکلیئر مواد سائٹ 99 پر چھپا کر رکھا گیا تھا۔ اسد حکومت کے گرنے کے بعد جب عالمی انسپکٹرز اور آئی اے ای اے کو دمشق میں رسائی ملی تو عالمی اداروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہ مواد نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے ایٹمی بم جتنا خطرہ تھا بلکہ کسی بھی غیر ریاستی عنصر یا شدت پسند تنظیم کے ہاتھ لگنے کی صورت میں تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔
پردے کے پیچھے کے حقائق: جو عام رپورٹس میں سامنے نہ آسکا
عالمی میڈیا کی روایتی رپورٹس سے ہٹ کر، اس سفارتی پیشرفت کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ اسرائیل نے بیک ڈور چینلز کے ذریعے شام کی عبوری قیادت کو واضح الٹی میٹم دے دیا تھا۔ اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کا دعویٰ تھا کہ سائٹ 99 پر موجود مواد کے حوالے سے علاقائی طاقتیں، بالخصوص ترکیہ کی پیشرفت، ان کے لیے ایک نیا سردرد بن سکتی ہے۔ اسرائیل کو اندیشہ تھا کہ شام میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ مواد یا تو سرحد پار منتقل ہو سکتا ہے یا پھر انقرہ کی چھتری تلے نئی شامی فورسز کے استعمال میں آ سکتا ہے۔
اسی خوف کے پیشِ نظر تل ابیب نے سائٹ 99 پر بمباری کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ تاہم، واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ نے مداخلت کی۔ امریکی حکام نے اسرائیلی قیادت پر واضح کیا کہ شام میں حکومت کی تبدیلی کے حساس مرحلے پر نیا فضائی حملہ پورا خطہ جلا کر راکھ کر سکتا ہے۔ اس کے بعد واشنگٹن کی ثالثی میں نیویارک اور جنیوا میں خفیہ ملاقاتیں شروع ہوئیں جس میں نئی شامی حکومت نے ماضی کی کسی بھی نیوکلیئر ہوس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
عام سوالات
سائٹ 99 (Site 99) کیا ہے؟
سائٹ 99 شام میں موجود ایک سابقہ انتہائی خفیہ ایٹمی مرکز ہے جہاں بشار الاسد حکومت کے غیر قانونی ایٹمی پروگرام کا تابکار اور نیوکلیئر مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔
اسرائیل نے شام پر حملے کی دھمکی کیوں دی تھی؟
اسرائیل کو خدشہ تھا کہ اسد حکومت کے گرنے کے بعد سائٹ 99 کا نیوکلیئر مواد یا تو خطے کی دیگر طاقتوں کے ہاتھ لگ جائے گا یا اسے اسرائیل کے خلاف استعمال کیا جائے گا، اس لیے وہ اسے فوجی طاقت سے تباہ کرنا چاہتا تھا۔
نیوکلیئر مواد اب کہاں جائے گا؟
معاہدے کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی کے ادارے (IAEA) کے تکنیکی ماہرین مواد کو اپنی تحویل میں لے کر بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیر فعال اور محفوظ بنائیں گے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
س: کیا شام کے پاس ایٹمی بم بنانے کی صلاحیت موجود تھی؟
ج: شام نے 2007ء سے قبل شمالی کوریا کی مدد سے الکِبار میں ایک خفیہ پلوٹونیئم ری ایکٹر بنانے کی کوشش کی تھی جسے اسرائیل نے تباہ کر دیا تھا۔ سائٹ 99 پر اسی دور کا بچا ہوا ایٹمی مواد موجود تھا، تاہم شام کے پاس مکمل ایٹمی بم موجود نہیں تھا۔
س: اس معاہدے میں ٹرمپ انتظامیہ کا کیا کردار رہا؟
ج: امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو براہِ راست فوجی حملے سے روکا اور شام کی نئی عبوری حکومت کے ساتھ سفارتی بات چیت کا راستہ کھول کر اس مواد کی IAEA کو منتقلی ممکن بنائی۔
س: کیا شام کی موجودہ حکومت اس پر متفق ہے؟
ج: جی ہاں، شام کی موجودہ حکومت نے عالمی الگ تھلگ ہونے سے بچنے اور استحکام کے لیے اس ایٹمی مواد تک عالمی اداروں کو مکمل رسائی اور تعاون فراہم کیا ہے۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا آپ کے خیال میں عالمی ادارے مشرقِ وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں سے مکمل پاک کر پائیں گے یا اسرائیل کا اپنا نیوکلیئر پروگرام اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور لکھیں!






