روس کا یوکرین پر اوریشنک ہائپرسونک میزائل حملہروسی اوریشnik ہائپرسونک میزائل کے بعد یوکرین میں کشیدگی

کیف، یوکرین — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو

روس نے یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں شدت پیدا کرتے ہوئے پہلی بار مبینہ طور پر اوریشنک ہائپرسونک میزائل کا استعمال کیا ہے۔ یہ حملہ رات گئے یوکرین کے مغربی علاقوں میں کیا گیا، جہاں یورپی یونین اور نیٹو کی سرحدیں قریب واقع ہیں۔ حملے میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یوکرینی حکام اور امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ یہ حملہ کسی اشتعال انگیزی کا جواب تھا، جبکہ عالمی سطح پر اس اقدام کو جنگ کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔


اہم نکات

  • روس نے اوریشنک ہائپرسونک میزائل کے استعمال کا دعویٰ کیا
  • حملہ یوکرین کے مغربی انفراسٹرکچر پر کیا گیا
  • نیٹو اور یورپی سرحد کے قریب سیکیورٹی خدشات میں اضافہ
  • یوکرین اور امریکہ نے روسی مؤقف کی تردید کی
  • عالمی ماہرین نے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا

حملہ کیا ہوا اور کہاں ہوا

یوکرین کی فضائیہ کے مطابق، تاریخ: 7 جنوری 2026 کی شب روسی افواج نے مغربی یوکرین کے علاقوں، بشمول لویو کے نواحی انفراسٹرکچر، کو نشانہ بنایا۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ میزائل کی نوعیت کی مکمل تصدیق جاری ہے، تاہم حملے کی رفتار اور اثرات ہائپرسونک ٹیکنالوجی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ روسی وزارتِ دفاع نے بیان دیا کہ یہ حملہ “فوجی اہداف” پر کیا گیا، تاہم یوکرین کے مطابق شہری توانائی نظام متاثر ہوا۔


سرکاری ردعمل اور عوامی ردعمل

یوکرین کے صدر کے دفتر نے بیان میں کہا کہ “روس کا یہ اقدام نہ صرف یوکرین بلکہ پورے یورپ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔”
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق، “ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال جنگ کو غیر متوقع حد تک خطرناک بنا سکتا ہے۔”

ایک یوکرینی شہری نے مقامی میڈیا کو بتایا:
“ہم نے ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی، ایسا لگا جیسے آسمان پھٹ گیا ہو۔”

جبکہ ایک دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا:
“یہ حملہ علامتی سے زیادہ اسٹریٹجک پیغام ہے، خاص طور پر نیٹو ممالک کے لیے۔”


یہ معاملہ کیوں اہم ہے

عسکری ماہرین کے مطابق، ہائپرسونک میزائل وہ ہتھیار ہیں جنہیں روکنا موجودہ دفاعی نظاموں کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ میڈیا تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے اوریشنک میزائل کا استعمال جنگ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور نیٹو کے ساتھ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔


اوریشنک

روس اس سے قبل بھی جدید میزائل ٹیکنالوجی کی نمائش کر چکا ہے، تاہم یوکرین میں اس نوعیت کے ہتھیار کا عملی استعمال پہلی بار رپورٹ ہوا ہے۔ اس سے قبل روس اور مغربی ممالک کے درمیان ہائپرسونک ہتھیاروں پر بیانات اور دھمکیوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، مگر اب یہ تنازع عملی مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔


آگے کیا ہوگا

ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں نیٹو ممالک کی جانب سے سفارتی اور دفاعی سطح پر ردعمل متوقع ہے، جبکہ یوکرین اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ حملہ جنگ کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے یا سفارتی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔


سوالات و جوابات

سوال 1: اوریشنک ہائپرسونک میزائل کیا ہے؟
یہ ایک جدید میزائل ٹیکنالوجی ہے جو آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار سے سفر کرتی ہے اور روایتی دفاعی نظاموں کے لیے اسے روکنا مشکل ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا استعمال جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

سوال 2: حملہ کن علاقوں میں ہوا؟
یوکرینی حکام کے مطابق حملہ مغربی یوکرین کے انفراسٹرکچر پر کیا گیا، جو یورپی یونین اور نیٹو کی سرحد کے قریب واقع ہے، جس سے علاقائی سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

سوال 3: امریکہ اور نیٹو کا ردعمل کیا ہے؟
امریکہ نے روس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ نیٹو صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور اتحادیوں سے مشاورت جاری ہے۔

سوال 4: اس حملے کے عالمی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر دفاعی حکمت عملیوں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔


عالمی سیاست اور جنگی صورتحال پر مستند اور بروقت خبریں پڑھنے کے لیے اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کو فالو کریں۔

ذرائع

  • Reuters
  • BBC News
  • Al Jazeera

By M Muzamil Shami

ایم مزمل شامی اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے بانی، مصنف اور نیوز رائٹر ہیں۔ انہوں نے صحافت، شوبز اور بین الاقوامی خبریں کور کرنے میں کئی سال کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم مزمل شامی کا مقصد قارئین کو تازہ ترین، مستند اور دلچسپ خبریں بروقت فراہم کرنا ہے۔ وہ نہ صرف خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ تحریر اور تجزیے کے ذریعے قارئین کو گہرائی میں معلومات پہنچانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہر عمر اور دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے موزوں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے