CAR‑T تھراپی سے خون کے کینسر کا علاجبرطانیہ میں پہلے بالغ مریض کو CAR‑T تھراپی کے ذریعے خون کے کینسر کا جدید علاج دیا گیا

مینچیسٹر، برطانیہ — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو

برطانیہ میں پہلی بار ایک بالغ مریض کو خون کے شدید کینسر B‑cell acute lymphoblastic leukaemia کے لیے جدید ترین CAR‑T تھراپی دی گئی، جسے اکثر “زندہ دوا” کہا جاتا ہے، اور مریض نے اسے حیران کن اور امید افزا درمان قرار دیا ہے۔ یہ علاج NHS (نیشنل ہیلتھ سروس) پر دستیاب ہونے کے بعد پہلی بار بالغوں میں استعمال کیا گیا ہے، جس سے مستقبل میں اسی نوعیت کے کم از کم پچاس مریضوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

اہم نکات:

  • برطانیہ میں پہلی بار بالغ مریض کو CAR‑T علاج ملا
  • علاج مریض کے اپنے مدافعتی خلیوں سے تیار کیا گیا
  • محض چند چمچ خلیے دم میں واپس دیے گئے
  • 77 فیصد مریضوں نے remission حاصل کیا
  • نئے علاج میں کم ضمنی اثرات دیکھے گئے

CAR‑T تھراپی کیا ہے؟

CAR‑T تھراپی خون کے سرطان کے خلاف ایک جدید مدافعتی علاج ہے جس میں مریض کے اپنے T‑سیلز کو لیبارٹری میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیوں کو پہچان سکیں اور انہیں نشانہ بنا سکیں۔
مینچیسٹر رائل انفارمری میں 28 سالہ آسکر مرفی کو اس طریقے سے ان کے خلیے واپس دیے گئے، جنہیں جینیاتی طور پر تیار کیا گیا تھا تاکہ وہ ان کے بیماری کے خلاف لڑ سکیں۔

مظاہراتی علاج کا عمل

اس علاج میں مریض کے خون سے T‑سیلز نکالے جاتے ہیں، پھر انہیں ایک خصوصی CAR (چیمیرک اینٹیجن ریسیپٹر) کے ساتھ تبدیل کیا جاتا ہے، جو کینسر کے خلیوں کو پہچان کر تباہ کرتا ہے۔
یہ “زندہ دوا” پھر مریض کے جسم میں صرف چند منٹوں میں واپس دی جاتی ہے، اور یہ خلیے مدت دراز تک جسم میں فعال رہتے ہیں۔

عوامی اور ماہرین کی رائے

ڈاکٹر ایلے نی تھولولی (ہیماتولوجسٹ) نے کہا ہے کہ “روایتی علاج کے مقابلے میں یہ طریقہ سب سے زیادہ محفوظ اور موثر ہے، جس سے مریضوں کو سالوں تک زندہ رہنے اور ممکنہ طور پر مکمل شفا کی امید ملتی ہے۔”
ایک مداح نے سوشل میڈیا پر لکھا: “یہ واقعی سائنسی خواب جیسا لگتا ہے کیونکہ ایک زبردست علاج نے میری امیدیں بڑھا دی ہیں۔” دوسرے ناظرین نے بھی اسے “بہت متاثر کن” قرار دیا۔

CAR‑T تھراپی کا سماجی اثر

کار‑ٹی تھراپی کی دستیابی بالغ مریضوں کے لیے اہم سنگ میل ہے، کیونکہ پہلے یہ صرف کچھ مخصوص کینسر اقسام یا عمر کے کم مریضوں کے لیے دستیاب تھی۔
متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاج خون کے کینسر، خصوصاً B‑cell ALL جیسی جلد حرکت کرنے والی بیماریوں میں نئے دور کے دروازے کھولتا ہے۔

تاریخی پس منظر اور آنے والے امکانات

CAR‑T تھراپی 2010 کی دہائی میں سامنے آئی اور پہلے بچوں میں استعمال ہوئی، جہاں اس نے حیران کن کامیابیاں دکھائیں۔
اب برطانیہ میں NICE (نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس) کی منظوری کے ساتھ بالغوں کے لیے بھی دستیاب ہو رہی ہے، جس سے ہزاروں مریضوں کو فائدہ ہوگا۔

اگلے مراحل کیا ہیں

مستقبل میں CAR‑T تھراپی مزید مراکز میں دستیاب ہوگی، اور طبی تحقیق کار اسے مزید خون کے سرطان اور دیگر سخت امراض میں آزمانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس علاج سے بہت سی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

1. CAR‑T تھراپی کتنی مؤثر ہے؟
تجربات میں 77 فیصد مریضوں نے علاج کے بعد remission حاصل کیا اور نصف مریض تین سال سے زیادہ وقت تک کینسر کے بغیر رہے۔

2. CAR‑T تھراپی کے ضمنی اثرات کیا ہیں؟
زیادہ تر مریضوں میں ضمنی اثرات کم یا معتدل تھے، اور اکثر معاملات میں یہ روایتی علاج کے مقابلے میں کم شدید رہے۔

3. کیا یہ علاج ہر کینسر کے لیے دستیاب ہے؟
فی الحال یہ خاص طور پر B‑cell acute lymphoblastic leukaemia اور کچھ دیگر خون کے سرطانوں کے لیے دستیاب ہے۔

4. علاج کے لیے کون اہل ہے؟
برطانیہ میں NHS کے تحت عام طور پر 26 سال اور اس سے زیادہ عمر کے مریض جن کا کینسر واپس آ چکا ہو یا روایتی علاج سے ٹھیک نہ ہوا ہو، وہ اہل ہیں۔

5. CAR‑T تھراپی نے جینیاتی ترمیم کیوں استعمال کی؟
جینیاتی ترمیم کے ذریعے T‑سیلز کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ کینسر کے مخصوص خلیوں کا نشانہ بنا سکیں، جس سے یہ علاج زیادہ مؤثر بنتا ہے۔

مزید پڑھیں: کینسر کے جدید علاج کی خبریں

مزید تازہ ترین صحت و سائنس کی خبروں کے لیے اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کو فالو کریں۔

ذرائع

  • The News
  • National Health Executive
  • Open Access Government

By M Muzamil Shami

ایم مزمل شامی اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے بانی، مصنف اور نیوز رائٹر ہیں۔ انہوں نے صحافت، شوبز اور بین الاقوامی خبریں کور کرنے میں کئی سال کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم مزمل شامی کا مقصد قارئین کو تازہ ترین، مستند اور دلچسپ خبریں بروقت فراہم کرنا ہے۔ وہ نہ صرف خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ تحریر اور تجزیے کے ذریعے قارئین کو گہرائی میں معلومات پہنچانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہر عمر اور دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے موزوں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے