سان ڈیاگو، امریکہ — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ **کچھ خواتین جو پہلے ہی طویل مدتی ڈپریشن اور انگزائٹی کا شکار تھیں، انہیں کوویڈ کے بعد طویل علامات یا لانگ کووڈ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے محقیقین نے 27 جنوری 2026 کو شائع تحقیق میں بتایا کہ وہ خواتین جن کی ذہنی صحت کی تاریخ میں **ڈپریشن اور انگزائٹی دونوں شامل تھیں، ان میں لانگ کووڈ کے امکانات تقریباً 78 فیصد زیادہ دیکھے گئے۔ یہ نتائج خود کوویڈ کے بعد علامات کے تین ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہنے والی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اہم نکات:
- تحقیق کے مطابق طویل مدتی ڈپریشن اور انگزائٹی والی خواتین میں لانگ کووڈ کے خطرے میں 78% اضافہ ہوا۔
- ان خواتین میں خفگی، تھکاوٹ، دماغی دھند (brain fog)، سانس کی قلت جیسی علامات زیادہ عام تھیں۔
- تحقیق میں بتایا گیا کہ ذہنی دباؤ نے حفاظتی عادات جیسے ماسک پہننے، ہاتھ دھونے اور فاصلہ رکھنے کو بھی متاثر کیا۔
- محققین نے کہا کہ صحت عامہ کی پالیسیوں میں ذہنی صحت کے عوامل کو شامل کرنا ضروری ہے۔
کیا ہوا؟
امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے محقیقین نے Women’s Health Initiative کے طویل عرصے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس میں متوسط عمر 83 سال کی خواتین شامل تھیں۔ تحقیق میں پتا چلا کہ جن خواتین کی تاریخ میں ڈپریشن اور انگزائٹی دونوں موجود تھیں، وہ سارس کووی-2 انفیکشن کے بعد لانگ کووڈ میں شدید پیچیدگیوں کا زیادہ شکار ہوئیں۔
ڈاکٹر وائل ال-ڈیلیمی نے کہا، "جب ان علامات کا مجموعہ ہوتا ہے تو عام طور پر ذہنی صحت کی مزید سنجیدہ صورتیں دکھائی دیتی ہیں۔”
لانگ کووڈ ایک ایسی حالت ہے جس میں مریض کو ابتدائی انفیکشن کے تین ماہ بعد بھی علامات کا سامنا رہتا ہے، جیسے تھکاوٹ، دماغی دھند اور سانس میں تکلیف۔
عوام اور سرکاری ردعمل
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل نہ صرف افراد کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ وہ وبائی امراض کے دوران حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد میں بھی فرق ڈال سکتے ہیں۔
ایک سماجی کارکن نے نام نہ بتاتے ہوئے کہا کہ، "ہم دیکھتے ہیں کہ جو خواتین ذہنی دباؤ میں ہیں وہ زیادہ محتاط حفاظتی رویے نہیں اپنا پاتیں، جس سے ان کے بیماری کے اثرات بڑھ جاتے ہیں۔”
ماہر امراضِ ذہنیہ کے مطابق، "طویل ڈپریشن اور انگزائٹی نے مدافعتی ردعمل پر بھی اثر ڈالا ہے اور بیماری کے بعد صحت یابی میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔”
کیوں یہ اہم ہے؟
یہ تحقیق اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ذہنی صحت اور وبائی امراض کے نتائج کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔ ڈاکٹر ولیئم برونو نے زور دیا کہ "سرکاری صحت کے حکام اور پالیسی بنانے والوں کو ان عوامل کی بنیاد پر **روک تھام کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے تاکہ سب سے زیادہ متاثرہ افراد کو مدد مل سکے۔”
شارٹ ٹرم کے بجائے طویل مدتی صحت کے نتائج پر توجہ دینے سے نہ صرف صحت کے نظام پر بوجھ کم ہوگا بلکہ غلط تشخیص اور پیچیدگیوں میں کمی آئے گی۔
ماضی میں ملتے جلتے واقعات کا پس منظر
دوسری تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ صحت یابی کے بعد افسردگی اور بے چینی جیسے ذہنی مسائل کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں عام ہیں۔ ایک مطالعے میں معلوم ہوا کہ عورتیں اور طویل کووڈ دونوں ہی میں بے چینی اور ڈپریشن کے امکانات زیادہ ہیں۔
اسی طرح پاکستان میں کی گئی ایک تحقیق نے بھی ظاہر کیا کہ کراچی کی بالغ آبادی میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح کافی زیادہ ہے، خاص طور پر خواتین میں۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
ماہرین صحت اب ذہنی صحت کی خدمات اور حمایت کو وبائی امراض کے بعد کی صحت یابی منصوبوں کا لازمی حصہ بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف **لانگ کووڈ کے خطرات کم ہوں گے بلکہ معاشرتی اور صحتی نظام پر پڑنے والا دباو بھی کم ہوگا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
لانگ کووڈ کیا ہے؟
لانگ کووڈ وہ حالت ہے جس میں کوویڈ انفیکشن کے بعد تین ماہ یا اس سے زیادہ وقت تک علامات برقرار رہتی ہیں جیسے تھکاوٹ، دماغی دھند یا سانس کی تکلیف۔
کیا صرف ڈپریشن یا صرف انگزائٹی بھی خطرہ بڑھاتی ہیں؟
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ڈپریشن اور انگزائٹی دونوں ایک ساتھ موجود ہوں تو لانگ کووڈ کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
کیا نوجوان خواتین میں بھی خطرہ بڑھتا ہے؟
تحقیق خاص طور پر بڑی عمر کی خواتین پر مبنی ہے اور اس میں نوجوان خواتین کا ڈیٹا محدود ہے، لیکن عمومی طور پر ذہنی صحت مسائل ہر عمر میں خطرات بڑھا سکتے ہیں۔
کیا حفاظتی اقدامات (مثلاً ماسک) کا اثر بھی پڑتا ہے؟
ہاں، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ذہنی مسائل والی خواتین حفاظتی اقدامات پر اتنی سختی سے عمل نہیں کر پاتیں، جو خطرات بڑھاتا ہے۔
کیا علاج ممکن ہے؟
جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے متوازن علاج، مشاورت اور طبی رہنمائی مفید ثابت ہوسکتی ہے، خاص طور پر لانگ کووڈ کی روک تھام میں۔
مزید تازہ طبی اور صحت خبریں پڑھنے کے لیے اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کو فالو کریں اور صحت کے متعلق اہم معلومات حاصل کریں۔
ذرائع
- University of California San Diego Research on Long COVID
- Health Report Summary
- Region Mental Health Background







