بروس ولس ڈیمنشیا پر ایما ہیمنگ کا بیانبروس ولس ڈیمنشیا سے متعلق ایما ہیمنگ کا اہم انکشاف

لاس اینجلس، امریکا — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو

ہالی ووڈ کے معروف اداکار بروس ولس کی اہلیہ ایما ہیمنگ ولس نے پہلی بار تفصیل سے انکشاف کیا ہے کہ بروس ولس کو کبھی یہ ادراک ہی نہیں ہوا کہ وہ فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا میں مبتلا ہیں۔ ایک حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں ایما نے بتایا کہ یہ کیفیت بروس کی بیماری کا حصہ ہے جسے طبی اصطلاح میں اینوسوگنوشیا کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حالت مریض کو اپنی ہی بیماری کو پہچاننے سے قاصر کر دیتی ہے، جس کے باعث بروس ولس نے اپنی ذہنی تبدیلیوں کو کبھی غیر معمولی نہیں سمجھا۔ یہ انکشاف نہ صرف مداحوں بلکہ صحتِ دماغ کے ماہرین کے لیے بھی اہم ہے۔


اہم نکات

  • بروس ولس کو اپنی بیماری کا کبھی شعور نہیں ہوا
  • ایما ہیمنگ نے اینوسوگنوشیا کی وضاحت کی
  • 2023 میں فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا کی تشخیص سامنے آئی
  • بیماری سے گفتار، جذبات اور شخصیت متاثر ہوتی ہے
  • ماہرین کے مطابق یہ کیفیت انکار نہیں بلکہ دماغی تبدیلی ہے

کیا ہوا: ایما ہیمنگ کا واضح بیان

ایما ہیمنگ ولس نے کیمرون اوکس راجرز کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بروس ولس نے کبھی یہ “ڈاٹس کنیکٹ” نہیں کیے کہ وہ ڈیمنشیا میں مبتلا ہیں۔ ان کے الفاظ میں، یہ ایک طرح کی نعمت اور آزمائش دونوں ہے کہ بروس کو اپنی بیماری کا احساس نہیں ہوا۔ ایما کے مطابق بروس کی عمر اس وقت ستر برس ہے اور وہ اپنی روزمرہ کیفیت کو بالکل معمول سمجھتے رہے۔

صحتِ دماغ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا میں مبتلا کئی مریض اسی طرح کی کیفیت سے گزرتے ہیں، جس میں خود آگاہی متاثر ہو جاتی ہے۔


عوامی ردعمل اور خاندانی مؤقف

بروس ولس کے مداحوں نے اس انکشاف پر ہمدردی اور احترام کا اظہار کیا ہے۔ ایک مداح نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بروس ولس ہماری نسل کے ہیرو ہیں اور ان کی بیماری کے باوجود ان کا وقار قابلِ تعریف ہے۔ ایک ناقد کے مطابق ایما ہیمنگ کا کھل کر بات کرنا ذہنی صحت سے متعلق آگاہی بڑھانے میں مدد دے گا۔

خاندان نے 2023 میں ایک مشترکہ بیان کے ذریعے تصدیق کی تھی کہ بروس ولس فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا میں مبتلا ہیں، جس کے باعث انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کی۔


یہ معاملہ کیوں اہم ہے

میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق بروس ولس جیسی عالمی شخصیت کی بیماری پر کھلی گفتگو ذہنی صحت کے گرد موجود خاموشی کو توڑنے میں مدد دیتی ہے۔ فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا ایک نسبتاً کم سمجھی جانے والی بیماری ہے، جو دماغ کے اگلے اور اطرافی حصوں کو تیزی سے متاثر کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف گفتار بلکہ جذباتی توازن اور شخصیت میں بھی نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

ایما ہیمنگ کے مطابق اینوسوگنوشیا کو اکثر انکار سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ بیماری کا فطری حصہ ہے۔


ماضی کا پس منظر اور ملتے جلتے واقعات

ماضی میں بھی کئی عالمی شخصیات کو ڈیمنشیا یا الزائمر جیسی بیماریوں کا سامنا رہا ہے، تاہم ہر مریض کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔ بروس ولس کے کیس میں اینوسوگنوشیا نے بیماری کی پہچان کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کے اہلِ خانہ کے لیے یہ صورتحال جذباتی طور پر نہایت مشکل ہوتی ہے۔


آگے کیا ہوگا

بروس ولس کا خاندان علاج اور نگہداشت پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ ایما ہیمنگ مستقبل میں ذہنی صحت اور ڈیمنشیا سے متعلق آگاہی مہمات میں فعال کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تاکہ دیگر خاندانوں کو بھی بہتر رہنمائی مل سکے۔


سوالات و جوابات

سوال: فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا کیا ہے؟
جواب: یہ ایک دماغی بیماری ہے جو دماغ کے اگلے اور اطرافی حصوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے گفتار، رویے اور شخصیت میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

سوال: اینوسوگنوشیا کیا ہوتی ہے؟
جواب: یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں مریض اپنی بیماری یا ذہنی تبدیلیوں کو پہچاننے سے قاصر رہتا ہے، اور اپنی حالت کو معمول سمجھتا ہے۔

سوال: بروس ولس کی بیماری کا انکشاف کب ہوا؟
جواب: بروس ولس کے خاندان نے 2023 میں باضابطہ طور پر ان کی فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا کی تشخیص کا اعلان کیا تھا۔

سوال: کیا یہ بیماری قابلِ علاج ہے؟
جواب: اس وقت اس بیماری کا مکمل علاج موجود نہیں، تاہم نگہداشت اور معاون علاج سے مریض کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔


ذہنی صحت اور ہالی ووڈ سے جڑی معتبر خبروں کے لیے اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کو فالو کریں اور اس رپورٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

ذرائع

سی این این، پیپل میگزین، بی بی سی

By M Muzamil Shami

ایم مزمل شامی اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے بانی، مصنف اور نیوز رائٹر ہیں۔ انہوں نے صحافت، شوبز اور بین الاقوامی خبریں کور کرنے میں کئی سال کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم مزمل شامی کا مقصد قارئین کو تازہ ترین، مستند اور دلچسپ خبریں بروقت فراہم کرنا ہے۔ وہ نہ صرف خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ تحریر اور تجزیے کے ذریعے قارئین کو گہرائی میں معلومات پہنچانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہر عمر اور دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے موزوں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے