اسلام آباد، پاکستان — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو
کورٹیسول جسے عام طور پر اسٹریس ہارمون کہا جاتا ہے، انسانی جسم میں میٹابولزم، بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قلیل مدت میں کورٹیسول کا بڑھنا جسم کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن جب یہ ہارمون طویل عرصے تک مسلسل بلند رہے تو جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حالیہ طبی رپورٹس کے مطابق دائمی ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور مسلسل تھکن ہائی کورٹیسول کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں، جو خاموشی سے کئی بیماریوں کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
اہم نکات
- کورٹیسول جسم کا قدرتی اسٹریس مینجمنٹ ہارمون ہے
- مسلسل ذہنی دباؤ کورٹیسول کی سطح بڑھا دیتا ہے
- ہائی کورٹیسول نیند، وزن اور مدافعتی نظام کو متاثر کرتا ہے
- بروقت علامات پہچاننا طویل مدتی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے
- طرزِ زندگی میں بہتری کورٹیسول کو متوازن کر سکتی ہے
کورٹیسول کیا ہے اور یہ کیوں بڑھتا ہے؟
کورٹیسول ایڈرینل گلینڈز سے خارج ہونے والا ہارمون ہے جو جسم کو خطرے یا دباؤ کی صورت میں فوری ردعمل کے قابل بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہارمون “فائٹ یا فلائٹ” ردعمل کا بنیادی جزو ہے۔ تاہم جدید طرزِ زندگی میں مسلسل دباؤ، طویل اسکرین ٹائم، غیر متوازن خوراک اور نیند کی کمی کورٹیسول کو معمول سے کہیں زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایک اینڈوکرائن اسپیشلسٹ کے مطابق، “جب کورٹیسول دن بھر بلند رہے تو جسم کو آرام کا موقع نہیں ملتا، جس کے نتائج آہستہ آہستہ سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔”
ہائی کورٹیسول کی 5 بڑی علامات
1۔ مناسب آرام کے باوجود مسلسل تھکن
ہائی کورٹیسول کی سب سے عام علامت مستقل تھکاوٹ ہے۔ متاثرہ افراد پوری نیند لینے کے باوجود خود کو بے جان اور ذہنی دھند کا شکار محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کورٹیسول جسم کے قدرتی سرکیڈین ردھم کو متاثر کرتا ہے، جس سے رات کے وقت مکمل بحالی ممکن نہیں رہتی۔
2۔ بے چینی، چڑچڑاپن اور موڈ میں تبدیلی
جب کورٹیسول طویل عرصے تک بلند رہے تو اعصابی نظام مسلسل خطرے کی حالت میں رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے جا بے چینی، غصہ، جذباتی عدم توازن اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک مریض کے مطابق، “چھوٹی باتوں پر بھی دل گھبرا جاتا ہے اور سکون محسوس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔”
3۔ وزن میں اضافہ، خاص طور پر پیٹ کے گرد
طبی ماہرین کے مطابق کورٹیسول چربی کو ذخیرہ کرنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر پیٹ کے حصے میں۔ اس کے ساتھ ساتھ میٹھے اور چکنائی والی غذا کی خواہش بھی بڑھ جاتی ہے، جس سے وزن کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے، چاہے خوراک بظاہر متوازن ہی کیوں نہ ہو۔
4۔ نیند میں شدید خلل
رات کے وقت کورٹیسول کی بلند سطح میلاٹونن کی پیداوار میں رکاوٹ بنتی ہے، جس کے باعث نیند آنے یا برقرار رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ نیند کی کمی خود کورٹیسول کو مزید بڑھا دیتی ہے، یوں ایک خطرناک چکر شروع ہو جاتا ہے۔
5۔ مدافعتی نظام کی کمزوری
طویل عرصے تک ہائی کورٹیسول جسم کے مدافعتی نظام کو دبا دیتا ہے۔ نتیجتاً بار بار انفیکشن، زخموں کا دیر سے بھرنا اور سوزش سے متعلق مسائل جنم لیتے ہیں۔ ایک سینئر میڈیکل اینالسٹ کے مطابق، “ہائی کورٹیسول خاموشی سے جسم کی حفاظتی دیواروں کو کمزور کر دیتا ہے۔”
عوامی ردعمل اور ماہرین کی رائے
سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق فورمز میں ہائی کورٹیسول پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، “ہم تھکن کو معمول سمجھ لیتے ہیں، مگر اصل مسئلہ اندر چھپا ہوتا ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور طرزِ زندگی میں تبدیلی اس مسئلے پر قابو پانے کی کنجی ہے۔
یہ مسئلہ کیوں اہم ہے؟
ہائی کورٹیسول صرف وقتی تکلیف نہیں بلکہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، ڈپریشن اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ذہنی دباؤ سے جڑی بیماریاں دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اور کورٹیسول اس زنجیر کا اہم حصہ ہے۔
ماضی کے تناظر میں
ماضی میں کورٹیسول زیادہ تر جسمانی خطرات کے ردعمل کے طور پر بڑھتا تھا، مگر آج یہ ہارمون زیادہ تر ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کے باعث بلند رہتا ہے۔ ماہرین اسے جدید دور کی “خاموش وبا” قرار دے رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق آگاہی، اسٹریس مینجمنٹ، بہتر نیند اور متوازن طرزِ زندگی سے کورٹیسول کی سطح کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں مزید طبی تحقیق اس مسئلے کے مؤثر حل سامنے لا سکتی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال 1: کیا ہائی کورٹیسول کا ٹیسٹ ممکن ہے؟
جی ہاں، خون، پیشاب یا تھوک کے ذریعے کورٹیسول لیول جانچا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر علامات کی بنیاد پر مناسب ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔
سوال 2: کیا ہائی کورٹیسول ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے؟
قلیل مدت میں نہیں، مگر طویل عرصے تک بلند رہنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
سوال 3: کیا طرزِ زندگی بدلنے سے فرق پڑتا ہے؟
ماہرین کے مطابق نیند، ورزش اور ذہنی سکون کورٹیسول کو متوازن کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
سوال 4: کیا ادویات ضروری ہیں؟
ہر کیس میں نہیں، بعض اوقات صرف طرزِ زندگی میں بہتری کافی ہوتی ہے، تاہم فیصلہ ڈاکٹر کرتا ہے۔
اپنی صحت کی علامات کو نظرانداز نہ کریں اور مستند طبی مشورے کو ترجیح دیں۔






