اسٹاربیس، ٹیکساس — 29 ستمبر 2026
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا اسٹار شپ راکٹ پہلی بار زمین کے مدار میں پہنچ گیا اور اس نے 26 نئی نسل کے اسٹارلنک سیٹلائٹس خلا میں تعینات کیے، تاہم پرواز کے دوران ایک انجن میں خرابی کے بعد مشن کو مقررہ وقت سے کئی گھنٹے پہلے ختم کرنا پڑا۔ یہ اسٹار شپ سسٹم کی 14ویں آزمائشی پرواز تھی اور اس کا مقصد پہلی مرتبہ مدار میں داخل ہونا تھا۔
اسپیس ایکس کے مطابق اسٹار شپ فلائٹ 14 نے 28 ستمبر کو امریکی ریاست ٹیکساس کے اسٹاربیس سے مقامی وقت کے مطابق صبح 7:48 بجے پرواز کی۔ کمپنی نے اس پرواز کو تقریباً 10 گھنٹے جاری رکھنے، متعدد مداری چکروں کے بعد بحرالکاہل میں واپسی اور 26 اسٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس کی تعیناتی کے لیے ڈیزائن کیا تھا۔
اہم نکات
- اسٹار شپ پہلی بار زمین کے مدار میں پہنچا۔
- 26 اسٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس خلا میں تعینات کیے گئے۔
- ایک انجن وقت سے پہلے بند ہونے کے باعث تقریباً 10 گھنٹے کا مشن تقریباً تین گھنٹے میں ختم کیا گیا۔
- یہ اسٹار شپ سسٹم کی 14ویں آزمائشی پرواز تھی۔
- انجن کی کارکردگی مستقبل کے ناسا آرٹیمس مشنز کے لیے اہم تکنیکی سوال برقرار رکھتی ہے۔
انجن کی خرابی نے مشن مختصر کر دیا
پرواز کے دوران اسٹار شپ کے تین انجنوں میں سے ایک وقت سے پہلے بند ہوگیا۔ اس خرابی کے بعد اسپیس ایکس نے مشن کی مدت تقریباً 10 گھنٹے سے کم کرکے تقریباً تین گھنٹے کردی۔ اس کے باوجود اسٹار شپ مدار تک پہنچنے اور سیٹلائٹس تعینات کرنے کے اہم اہداف مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسٹار شپ نے چند مداری چکروں کے بعد دوبارہ فضا میں داخل ہو کر بحرالکاہل میں ہوائی کے قریب پانی میں اختتام کیا۔ واپسی کے مرحلے میں بھی راکٹ کو انجن سے متعلق مشکلات کا سامنا رہا۔
26 نئے اسٹارلنک سیٹلائٹس کیوں اہم ہیں؟
اس پرواز کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اسٹار شپ نے پہلی بار عملی اسٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس مدار میں پہنچائے۔ اسپیس ایکس کے مطابق ان سیٹلائٹس کا مقصد موجودہ اسٹارلنک نیٹ ورک کی گنجائش اور صارفین کے لیے دستیاب رفتار میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔
یہ پہلو اس مشن کو صرف ایک آزمائشی پرواز نہیں بناتا، کیونکہ اسٹار شپ کو مستقبل میں بڑے پیمانے پر سیٹلائٹس خلا میں پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
ناسا کے چاند مشن کے لیے بھی اہم مرحلہ
اس کامیابی کے باوجود انجن کا مسئلہ اسٹار شپ پروگرام کے لیے ایک اہم تکنیکی چیلنج برقرار رکھتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق انجن کی خرابی مستقبل کے مشنز، خصوصاً ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے لیے اسٹار شپ کی تیاری کے شیڈول پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ناسا کے منصوبوں میں اسٹار شپ کو چاند پر انسانی مشنز کے لیے لینڈر کے طور پر استعمال کرنا شامل ہے۔
یوں فلائٹ 14 نے ایک ہی وقت میں اسٹار شپ پروگرام کی دو مختلف حقیقتیں سامنے رکھ دی ہیں: راکٹ نے پہلی بار مدار تک پہنچنے اور اسٹارلنک سیٹلائٹس تعینات کرنے کا اہم سنگِ میل حاصل کیا، لیکن انجن کی قابلِ اعتماد کارکردگی اب بھی آئندہ طویل اور انسانی مشنز سے پہلے ایک بنیادی تکنیکی ضرورت ہے۔







