بیجنگ، چین — اسٹار اسٹراک ٹائمز اردو
دنیا کے سمندروں نے 2025 میں ریکارڈ سطح تک حرارت جذب کی ہے، جو جدید پیمائش کے آغاز کے بعد کسی بھی سال میں سب سے زیادہ ہے، ماہرین نے 9 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک عالمی تحقیق میں بتایا۔ اس حرارت کے اضافے نے سمندر کی سطح میں اضافہ، موسمی شدت، اور سخت طوفانوں کے امکانات بڑھا دیے ہیں، جو ساحلی علاقوں اور عالمی ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق Advances in Atmospheric Sciences نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
اہم نکات
- عالمی سمندر نے 2025 میں سب سے زیادہ حرارت جذب کی۔
- حرارت کا اندازہ تقریباً 23 زیتا جول تھا، جو کئی دہائیوں کی توانائی برابر ہے۔
- تحقیقی ڈیٹا میں سمندر کے اوپری 2000 میٹر پانی کو مدنظر رکھا گیا۔
- گرم سمندر طوفان، سیلاب اور موسمی بحرانوں کے امکانات بڑھا رہے ہیں۔
- کچھ سمندری حصوں میں بحر اوقیانوس، جنوبی بحر، اور انڈین اوشین سب سے زیادہ گرم ہوئے۔
کیا ہوا؟
ایک بڑے بین الاقوامی تحقیقی گروپ نے جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور معلوم کیا کہ 2025 میں عالمی سمندر نے تقریباً 23 زیتا جول حرارت جذب کی جو کسی بھی سال میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ حرارت کا احتساب اوپری 2000 میٹر پانی تک کیا گیا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی گرمی ہمارے سیارے کے سب سے بڑے حرارت ذخیرہ کنندہ میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تحقیق میں NOAA/NCEI، کوپرنِکس میرین، اور چینی اکیڈمی آف سائنسز جیسے عالمی ڈیٹا کا استعمال شامل تھا، جس نے سمندری حرارت کے نئے ریکارڈ کی تصدیق کی۔
عوامی ردعمل اور سرکاری جواب
ماہرین موسمیات نے کہا ہے کہ سمندر کا یہ ریکارڈ حرارت جذب کرنا ایک واضح اشارہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی تیز رفتار سے جاری ہے۔ ایک ماہر کا کہنا ہے، "اگر ہم نے اخراج کم نہ کیا تو سمندری حرارت میں اضافے کی رفتار بڑھے گی اور علاقے مزید شدید موسمی واقعات کا سامنا کریں گے۔”
ساحلی رہائشیوں نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے کہ بے ہنگم طوفان اور سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی معیشت اور حفاظت متاثر ہو سکتی ہے۔
کیوں یہ اہم ہے؟
سمندر زمین کے موسمی نظام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے بننے والی حرارت کا تقریباً 90 فیصد حصہ جذب کرتا ہے۔ جیسے جیسے سمندری حرارت بڑھتی ہے، پانی پھیلتا ہے اور سمندر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے ساحلی بستیوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ حرارت طوفانوں کی شدت میں اضافے، شدید بارشوں، اور موسمی بحرانوں کے امکانات کو بڑھاتی ہے، جس کے اثرات انسانی زندگی، زراعت اور ماحولیاتی نظام پر گہرے ہوں گے۔
ماضی کے واقعات کا پس منظر
گزشتہ دہائیوں میں سمندری گرمی میں مستقل اضافہ دیکھا گیا ہے، اور 2010ء کے بعد سے یہ رفتار خاصی بڑھ گئی ہے۔ حالیہ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ 2018 سے ہر سال عالمی سمندر نے حرارت کے ریکارڈ توڑے ہیں، جس سے طویل مدتی موسمیاتی رجحانات واضح ہوتے ہیں۔
نتیجہ: آگے کیا ہوتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو یہ ریکارڈز مستقبل میں مزید توڑے جائیں گے۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے اب موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اور مضبوط اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سمندر نے حرارت کیوں جذب کی؟
سمندر زمین کے موسمی نظام کا سب سے بڑا حرارت ذخیرہ ہے اور گرین ہاؤس گیسوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا تقریباً 90 فیصد حصہ اسی میں جذب ہوتا ہے، جس سے پانی گرم ہوتا جاتا ہے۔
یہ حرارت کس حد تک ہے؟
2025 میں تقریباً 23 زیتا جول حرارت جذب ہوئی، جو عالمی توانائی استعمال کے کئی دہائیوں کے برابر ہے۔
اس کے انسانی اثرات کیا ہیں؟
گرم سمندر سمندر کی سطح بڑھاتا ہے، طوفانوں کو شدید بناتا ہے، اور سمندری ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔
کیا یہ موسمیاتی تبدیلی کا ثبوت ہے؟
جی ہاں، مسلسل بڑھتی ہوئی سمندری حرارت عالمی موسمیاتی تبدیلی کا مضبوط ثبوت ہے۔
ہم مستقبل میں کیا کر سکتے ہیں؟
اخراج میں کمی، صاف توانائی کا استعمال، اور ماحولیاتی پالیسیوں کو مضبوط کرنا ضروری ہیں۔
مزید تازہ موسمی اور عالمی خبروں کے لیے اسٹار اسٹراک ٹائمز اردو پر روزانہ وزٹ کریں۔
ذرائع
- ٹائم
- دی گارڈین
- سائنس بلاگ
- انڈین نیو انگلینڈ







