ناٹنگھم، برطانیہ — 29 ستمبر 2026
یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے محققین کی تیار کردہ ایک پروٹین پر مبنی جیل نے تجربہ گاہ میں خراب اور معدنیات سے محروم دانتوں کے انیمل کی ساخت کو دوبارہ بنانے کی صلاحیت دکھائی ہے۔ تحقیق میں دو ہفتے کے علاج کے بعد دانتوں کی سطح پر منظم نئے معدنی کرسٹل بنے، جبکہ موجودہ مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کو انسانوں میں جانچنے کے لیے کلینیکل ٹرائل بھی جاری ہے۔
اہم نکات
- جیل دانتوں کے انیمل کی قدرتی تشکیل کے عمل کی نقل کرنے کے لیے پروٹین پر مبنی میٹرکس استعمال کرتا ہے۔
- تجربات میں یہ کیلشیم اور فاسفیٹ آئنز کو استعمال کرتے ہوئے انیمل جیسے منظم معدنی کرسٹل بنانے میں کامیاب رہا۔
- لیبارٹری تجربات میں تقریباً 10 مائیکرومیٹر تک معدنی تہہ دوبارہ بنائی گئی، جبکہ دو ہفتے کے علاج کے بعد منظم کرسٹل کی تشکیل دیکھی گئی۔
- تحقیق میں دوبارہ بننے والے انیمل نے برش کرنے، چبانے اور تیزابی ماحول جیسے حالات میں قدرتی انیمل سے ملتی جلتی میکانی خصوصیات دکھائیں۔
- 2026 میں Epinamel نامی ٹیکنالوجی کا ابتدائی انسانی کلینیکل ٹرائل شروع ہو چکا ہے، اس لیے یہ ابھی عام مریضوں کے لیے دستیاب ثابت شدہ علاج نہیں ہے۔
جیل دانتوں کا انیمل کیسے دوبارہ بناتا ہے؟
دانتوں کا انیمل انسانی جسم کے سخت ترین بافتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن ایک مرتبہ مستقل طور پر ضائع ہونے کے بعد یہ قدرتی طور پر دوبارہ نہیں بنتا۔ یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی ٹیم نے اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک ایسا سپرمولیکیولر پروٹین میٹرکس تیار کیا جو دانتوں کی نشوونما کے دوران انیمل بنانے والے قدرتی حیاتیاتی عمل کی نقل کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ میٹرکس دانت کی سطح پر لگنے کے بعد ایپی ٹیکسیئل معدنی نمو کو متحرک کرتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں کیلشیم اور فاسفیٹ پر مشتمل ایپیٹائٹ کرسٹل دانت کے موجودہ انیمل کے ساتھ منظم انداز میں جڑتے اور نئی تہہ بناتے ہیں۔ محققین نے مختلف سطحوں کے خراب یا گھسے ہوئے انیمل پر اس عمل کا مظاہرہ کیا۔
اہم بات یہ ہے کہ تحقیق صرف دانت کی سطح پر کوئی عارضی معدنی کوٹنگ بنانے تک محدود نہیں رہی۔ محققین کے مطابق نئی معدنی تہہ نے قدرتی انیمل کی ساخت اور متعدد میکانی خصوصیات کو دوبارہ پیدا کیا، جس میں سختی، مضبوطی اور رگڑ کے خلاف مزاحمت شامل ہے۔
دو ہفتوں کا نتیجہ، لیکن ابھی انسانوں میں مکمل ثبوت باقی
تحقیق میں استعمال کیے گئے دانتوں پر دو ہفتے کے علاج کے بعد الیکٹران مائیکروسکوپی سے دوبارہ منظم انیمل کرسٹل کی تشکیل دیکھی گئی۔ تاہم یہاں ایک اہم فرق ہے: یہ نتائج لیبارٹری میں انسانی دانتوں پر کیے گئے تجربات سے حاصل ہوئے تھے، نہ کہ مکمل انسانی علاج کے نتائج سے۔
اصل تحقیق میں معدنی تہہ کی موٹائی تقریباً 10 مائیکرومیٹر تک دکھائی گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جیل چند ہفتوں میں دانت کے مکمل موٹے انیمل کو نئے سرے سے بنا دے گا یا بڑے گہرے سوراخ کو خود بخود بھر دے گا۔ موجودہ شواہد زیادہ تر ابتدائی انیمل نقصان، سطحی کٹاؤ اور مخصوص حساسیت جیسے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
یہی وہ اہم پہلو ہے جو بعض ابتدائی سرخیوں میں واضح نہیں ہوتا: یہ ٹیکنالوجی ابھی روایتی فلنگ کا ثابت شدہ متبادل نہیں ہے۔
حساس دانتوں اور ابتدائی خرابی کے لیے ممکنہ استعمال
محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا ایک ممکنہ استعمال exposed dentine یعنی انیمل کے نیچے موجود ڈینٹین کے ظاہر ہونے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ ڈینٹین کے تحفظ کے ذریعے دانتوں کی حساسیت کم کرنے اور دانتوں کی بحالی کے بعض طریقوں میں مدد ملنے کا امکان تحقیق میں بیان کیا گیا ہے۔
لیکن اس مرحلے پر اسے ہر قسم کی کیویٹی، گہرے دانت کے سوراخ یا ایسے نقصان کے علاج کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا جس کے لیے فلنگ، کراؤن یا دیگر بحالی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
2026 میں انسانی آزمائش کا نیا مرحلہ
اس تحقیق کی سب سے اہم تازہ پیش رفت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اب صرف لیبارٹری تحقیق تک محدود نہیں رہی۔ عوامی طور پر دستیاب کلینیکل ٹرائل ریکارڈ کے مطابق Mintech-Bio کی Epinamel ٹیکنالوجی پر ایک پائلٹ انسانی مطالعہ جولائی 2026 میں شروع ہوا اور اس میں تقریباً 20 افراد کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ مطالعہ دانتوں پر بننے والے ابتدائی سفید دھبوں یا white spot lesions کا جائزہ لے رہا ہے، جو ابتدائی دانتوں کی خرابی کی علامت ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کی ہیلتھ ریسرچ اتھارٹی کے مطابق آزمائش میں علاج شدہ دانتوں کا موازنہ ایک کنٹرول علاج سے کیا جائے گا اور شرکاء کی پیروی کئی ہفتوں تک کی جائے گی۔ اس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ لیبارٹری میں نظر آنے والی انیمل کی دوبارہ تشکیل حقیقی انسانی منہ کے ماحول میں بھی مؤثر اور محفوظ طریقے سے حاصل کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی ٹیم نے اس ٹیکنالوجی کو تجارتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے اسٹارٹ اپ Mintech-Bio کے ساتھ کام شروع کیا ہے۔ تاہم موجودہ مرحلے پر کسی وسیع پیمانے پر مارکیٹ میں دستیابی کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ انسانی آزمائش کے نتائج ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
اصل اہمیت کیا ہے؟
اس تحقیق کی اہمیت اس بات میں ہے کہ سائنس دان صرف دانت کی سطح پر معدنیات جمع کرنے کے بجائے قدرتی انیمل کی منظم ساخت کو دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر انسانی آزمائشوں میں بھی یہ طریقہ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو ابتدائی انیمل نقصان، دانتوں کے کٹاؤ اور حساسیت کے علاج میں موجودہ طریقوں کے لیے ایک نیا راستہ کھل سکتا ہے۔
لیکن فی الحال دو ہفتوں میں انیمل کی دوبارہ تشکیل کا دعویٰ تجرباتی نتائج تک محدود ہے۔ اسے عام مریضوں کے لیے ثابت شدہ علاج یا گہری کیویٹی کے لیے فلنگ کے یقینی متبادل کے طور پر پیش کرنا موجودہ شواہد سے آگے بڑھنا ہوگا۔







