ناسا آرٹیمس دوم مشن قمری فلائی بائیناسا آرٹیمس دوم مشن کے تحت خلا باز چاند کے قریب تاریخی پرواز کریں گے

واشنگٹن، امریکا — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو

ناسا پچاس برس سے زائد عرصے بعد انسانوں کو ایک بار پھر چاند کے قریب بھیجنے کی تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ آرٹیمس دوم مشن کے تحت خلا باز چاند کے گرد تاریخی فلائی بائی کریں گے، جو مستقبل میں طویل المدتی خلائی مشنز کے لیے ایک فیصلہ کن آزمائش سمجھی جا رہی ہے۔ یہ مشن نہ صرف اسپیس لانچ سسٹم راکٹ اور اورائن خلائی جہاز کی صلاحیتوں کو جانچے گا بلکہ امریکا کی انسانی خلائی پرواز میں قیادت کو بھی مضبوط کرے گا۔


اہم نکات

  • آرٹیمس دوم مشن میں خلا باز پہلی بار چاند کے قریب انسانی پرواز کریں گے
  • اسپیس لانچ سسٹم اور اورائن خلائی جہاز کا عملی فلائٹ ٹیسٹ
  • مستقبل میں چاند پر مستقل امریکی واپسی کی بنیاد
  • مریخ مشنز کے لیے ٹیکنالوجی کی جانچ
  • عالمی شراکت داری اور صنعتی تعاون پر زور

آرٹیمس دوم مشن کیا ہے اور کب ہوگا

ناسا کے مطابق آرٹیمس دوم مشن ایک انسانی خلائی پرواز پر مشتمل ہوگا جس میں خلا باز چاند کے گرد چکر لگائے بغیر اس کے قریب سے گزریں گے۔ یہ مشن سن 2026 کے دوران متوقع ہے اور اس کا مقصد طویل المدتی خلائی سفر کے لیے سسٹمز کی جانچ ہے۔ اس مشن میں اسپیس لانچ سسٹم راکٹ خلا بازوں کو اورائن خلائی جہاز سمیت خلا میں لے جائے گا، جو گہرے خلا کے سخت حالات میں انسانی حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ناسا کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق،
"آرٹیمس دوم ہمارے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے جو یہ ثابت کرے گا کہ ہم انسانوں کو محفوظ طریقے سے چاند اور اس سے آگے لے جانے کے لیے تیار ہیں۔”


عوامی اور سائنسی حلقوں کا ردعمل

سائنسی ماہرین اور خلائی تجزیہ کار اس مشن کو مستقبل کی خلائی معیشت کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔ ایک معروف خلائی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ آرٹیمس پروگرام نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سطح پر خلائی تعاون کو نئی سمت دے گا۔
سوشل میڈیا پر خلائی شوقین افراد نے بھی جوش و خروش کا اظہار کیا۔ ایک مداح نے کہا،
"یہ لمحہ ہمیں اپولو دور کی یاد دلاتا ہے، مگر اس بار مستقبل کہیں زیادہ وسیع ہے۔”


یہ مشن کیوں اہم ہے

میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق آرٹیمس دوم مشن انسانی خلائی پرواز کے اگلے دور کا آغاز ہے۔ اس مشن کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی، قمری بیس کے قیام اور مریخ مشنز کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز نہ صرف سائنسی دریافتوں بلکہ نئی صنعتی شراکت داریوں کو بھی فروغ دیں گی۔


ماضی اور مستقبل کا تناظر

اپولو مشنز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انسان چاند کے قریب اس سطح پر واپس جا رہے ہیں۔ ناسا نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران 2028 تک امریکی خلا بازوں کی چاند پر واپسی کا ہدف برقرار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو بھی رواں سال فعال کیا جائے گا، جو کائنات کے گہرے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد دے گا۔


آگے کیا ہوگا

آرٹیمس دوم مشن کی کامیابی کے بعد ناسا آرٹیمس سوم پر توجہ دے گا، جس کے تحت خلا بازوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔ یہ تمام اقدامات بالآخر انسانوں کو مریخ تک پہنچانے کے طویل المدتی ہدف کی طرف ایک اور قدم ہوں گے۔

مزید سائنسی خبریں پڑھنے کے لیے ہمارا سائنس اور صحت سیکشن ملاحظہ کریں۔


اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: آرٹیمس دوم مشن کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب: اس مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورائن خلائی جہاز کی جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل میں انسانوں کو چاند اور مریخ جیسے طویل المدتی مشنز پر محفوظ طریقے سے بھیجا جا سکے۔

سوال: کیا آرٹیمس دوم میں خلا باز چاند پر اتریں گے؟
جواب: نہیں، اس مشن میں خلا باز صرف چاند کے قریب سے گزریں گے۔ چاند پر لینڈنگ آرٹیمس سوم مشن میں متوقع ہے۔

سوال: یہ مشن عالمی سطح پر کیوں اہم ہے؟
جواب: یہ مشن نئی خلائی ٹیکنالوجیز، عالمی تعاون اور مستقبل کی خلائی معیشت کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔

سوال: مریخ مشنز سے اس کا کیا تعلق ہے؟
جواب: آرٹیمس دوم میں آزمائی جانے والی ٹیکنالوجیز مستقبل میں مریخ تک انسانی سفر کے لیے استعمال ہوں گی۔


خلائی سائنس کی تازہ ترین مستند خبریں جاننے کے لیے اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کو فالو کریں اور اپنی رائے سے ہمیں آگاہ کریں۔

ذرائع

ناسا
سی این این
اسپیس ڈاٹ کام

By M Muzamil Shami

ایم مزمل شامی اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے بانی، مصنف اور نیوز رائٹر ہیں۔ انہوں نے صحافت، شوبز اور بین الاقوامی خبریں کور کرنے میں کئی سال کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم مزمل شامی کا مقصد قارئین کو تازہ ترین، مستند اور دلچسپ خبریں بروقت فراہم کرنا ہے۔ وہ نہ صرف خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ تحریر اور تجزیے کے ذریعے قارئین کو گہرائی میں معلومات پہنچانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہر عمر اور دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے موزوں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے