واشنگٹن، امریکہ — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ کو معطل کرے گا تاکہ امیگریشن پروسیسز کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے اور ایسے افراد کی ملک میں آمد کو روکا جا سکے جو امریکی سرکاری امداد پر انحصار کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کیا۔ اس پابندی کا آغاز 21 جنوری سے ہوگا اور اس میں لاطینی امریکہ، بالکان، جنوبی ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے کئی ممالک شامل ہیں۔
اہم نکات:
- 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ معطل۔
- پابندی کا آغاز 21 جنوری سے ہوگا۔
- ریاستہائے متحدہ میں سرکاری امداد پر انحصار روکنے کی کوشش۔
- ویزا پابندی سے تقریباً 3,15,000 قانونی امیگرنٹس متاثر ہو سکتے ہیں۔
- پابندی میں پاکستان، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، البانیا اور دیگر ممالک شامل۔
کیا ہوا؟
امریکی حکومت نے موجودہ امیگریشن پالیسی میں سختی کرتے ہوئے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا پروسیسنگ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان محکمہ خارجہ ٹومی پیگوٹ کے مطابق، "محکمہ خارجہ طویل عرصے سے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایسے ممکنہ امیگرنٹس کو غیر اہل قرار دے گا جو امریکی عوام کی فراخدلی کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔” یہ پابندی لاطینی امریکہ، بالکان، جنوبی ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے ممالک کو شامل کرتی ہے۔
عوام اور سرکاری ردعمل
امریکی میڈیا کے مطابق، اس اقدام پر عوام میں مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی امریکی شہریوں نے اس فیصلے کو ملکی حفاظت کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ انسانی حقوق کے گروپوں نے اسے غیر انسانی اور امیگریشن کے حق کے خلاف قرار دیا۔ ڈیویڈ بیر، Cato انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر برائے امیگریشن اسٹڈیز، کہتے ہیں، "یہ اقدام تقریباً نصف قانونی امیگرنٹس کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک دے گا، جو آنے والے سال میں 3,15,000 افراد پر اثر ڈالے گا۔”
اس کا کیا اثر ہوگا؟
ماہرین کے مطابق، اس پابندی سے نہ صرف امیگریشن پروسیس سست ہوگا بلکہ امریکی معیشت میں بھی ممکنہ اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ کئی ہنر مند کارکنان اور قانونی امیگرنٹس متاثر ہوں گے۔ میڈیا اینالسٹس کا کہنا ہے کہ "اس اقدام سے امریکی کاروباری اداروں کو ہنر مند ورک فورس کی دستیابی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔”
ماضی کے واقعات کے تناظر میں
یہ پابندی اس وقت آتی ہے جب نومبر میں امریکی سفارتکاروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ ویزا درخواست گزار مالی طور پر خود کفیل ہوں اور سرکاری امداد پر انحصار نہ کریں۔ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنی پچھلی پالیسیوں میں H-1B ویزا کے لیے نئے اور مہنگے فیسز بھی نافذ کیے ہیں تاکہ قانونی امیگریشن کو محدود کیا جا سکے۔
متاثرہ ممالک کی مکمل فہرست:
افغانستان، البانیا، الجزائر، انٹیگوا اینڈ باربودا، آرمینیا، آذربائیجان، بہاماس، بنگلہ دیش، بارباڈوس، بیلاروس، بیلائز، بھوٹان، بوسنیا، برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے، کولمبیا، کانگو، کیوبا، ڈومینیکا، مصر، اریٹریا، ایتھوپیا، فجی، گیمبیا، جارجیا، گھانا، گرینیڈا، گواتیمالا، گنی، ہیٹی، ایران، عراق، آیواری کوسٹ، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت، کرغیزستان، لاؤس، لبنان، لائبیریا، لیبیا، مقدونیہ، مولڈووا، منگولیا، مونٹے نیگرو، مراکش، نیپال، نکاراگوا، نائیجیریا، پاکستان، کانگو ریپبلک، روس، روانڈا، سینٹ کٹس اور نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اور گرینیڈائنز، سینیگل، سیرالیون، سومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان اور یمن۔
اب کیا ہوگا؟
امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق، یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزا پر اثر ڈالے گی اور سیاحتی ویزا یا ورلڈ کپ 2026 اور اولمپکس 2028 کی تیاریاں متاثر نہیں ہوں گی۔ متوقع ہے کہ پالیسی پر قانونی چیلنجز بھی سامنے آئیں گے اور کئی ممالک امریکی حکومت سے مذاکرات کی کوشش کریں گے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال 1: کیا یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزا پر لاگو ہوگی؟
جواب: جی ہاں، پابندی صرف امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ پر ہوگی اور سیاحتی ویزا پر اثر نہیں ڈالے گی۔
سوال 2: پاکستان اور بنگلہ دیش کے شہری کب سے متاثر ہوں گے؟
جواب: یہ پابندی 21 جنوری سے نافذ ہوگی اور ان ممالک کے امیگرنٹ ویزا درخواست گزار اس سے متاثر ہوں گے۔
سوال 3: کیا امریکہ کی موجودہ پالیسی غیر قانونی امیگریشن کو روکنے میں مددگار ہے؟
جواب: میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام قانونی امیگریشن کو محدود کرے گا جبکہ غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے پر مکمل اثر کا امکان کم ہے۔
سوال 4: کیا اس سے امریکی معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے؟
جواب: ہاں، ہنر مند کارکنان کی کمی کے سبب کاروباری شعبے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
سوال 5: متاثرہ ممالک کی مکمل فہرست کہاں دستیاب ہے؟
جواب: امریکہ کی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ اور متعلقہ خبری ذرائع میں مکمل فہرست موجود ہے۔
امریکہ کی امیگریشن پالیسی کے تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے سائنس اور صحت، دنیا، اور شوبز سیکشنز کو فالو کریں۔
ذرائع:






