سعودی عرب کے شہر ریاض میں فیکٹری میں آگ لگنے کا حادثہ جس میں 16 بنگلہ دیشی جاں بحق ہوئےریاض کے الصِفا علاقے میں غیر قانونی فیکٹری میں آگ بجھاتے ہوئے سعودی سول ڈیفنس کے اہلکار۔

کرچی، پاکستان، 11 اگست 2026 — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم ایک فرنیچر فیکٹری میں اچانک بھڑکنے والی ہولناک آگ نے 16 غریب بنگلہ دیشی محنت کشوں کی زندگیاں نگل لیں۔ الصِفا کے صنعتی علاقے میں پیش آنے والے اس دردناک حادثے نے نہ صرف خلیج میں مقیم لاکھوں دیس پردیس میں محنت کرنے والے تارکین وطن کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ ایک بار پھر غیر قانونی اور بغیر لائسنس والی تجارتی عمارتوں میں حفاظتی تدابیر کے فقدان پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اہم نکات

  • حادثے کی جگہ: ریاض کے ضلع الصِفا کے صنعتی علاقے میں واقع ایک صوفہ سازی کی فیکٹری۔
  • جانی نقصان: حادثے میں 16 بنگلہ دیشی شہری موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، کوئی شخص زخمی نہیں بچا۔
  • عمارت کی قانونی حیثیت: سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے فیکٹری کے غیر لائسنس یافتہ ہونے کی تصدیق۔
  • حکومتی اقدام: بنگلہ دیشی وزارت خارجہ اور سفارت خانہ میتوں کی وطن واپسی اور لواحقین کے لیے معاوضے پر متحرک۔

دردناک واقعہ اور خبر کی تفصیلات

بنگلہ دیشی وزارت خارجہ اور ریاض میں واقع بنگلہ دیشی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی تفصیلات کے مطابق، اتوار کے روز ریاض کے الصِفا ضلع میں واقع ایک صوفہ فیکٹری میں اچانک سائرن بجے بغیر شعلے بلند ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فیکٹری کے اندر موجود مزدوروں کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود تمام 16 محنت کش دم گھٹنے اور جھلسنے کی وجہ سے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں کوئی بھی فرد زخمی نہیں ہوا کیونکہ فیکٹری کے بند ماحول اور انتہائی آتش گیر مادے (فوم اور کپڑے) کی موجودگی نے کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

بنگلہ دیش کے وزیر برائے اوورسیز ویلفیئر عریف الحق چوہدری نے اس ہولناک واقعے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ریاض میں سفارتی ٹیم کو سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کی پہلی ترجیح جاں بحق افراد کی میتوں کو جلد از جلد ان کے آبائی وطن منتقل کرنا اور سوگوار خاندانوں کو مالی امداد و معاوضہ فراہم کرنا ہے۔

وہ حقیقت جو دیگر رپورٹس میں نظر انداز کی گئی

مین اسٹریم میڈیا اکثر اس طرح کی خبروں کو صرف اعداد و شمار کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اس سانحے کے پسِ منظر میں کچھ اہم حقائق چھپے ہیں۔

سعودی عرب کے ادارے سول ڈیفنس نے تصدیق کی ہے کہ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہ ایک غیر لائسنس یافتہ (Unlicensed) فرنیچر سازی کی فیکٹری تھی۔ صنعتی علاقوں میں ایسی کئی چھوٹی گودام نما فیکٹریاں قائم ہیں جو اکثر حفاظتی ضوابط (Fire Safety Standards)، جیسے فائر ایکسٹینگوشر، ایمرجنسی ایگزٹ، اور سموک ڈیٹیکٹرز سے محروم ہوتی ہیں۔

سعودی عرب میں 30 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی تارکین وطن مقیم ہیں جو ملک کے تعمیراتی، خدمات اور صنعتی شعبے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ کم اجرت پر سخت حالات میں کام کرنے والے ان مزدوروں کے لیے غیر رجسٹرڈ فیکٹریوں میں سیکیورٹی کا فقدان اکثر زندگی کا سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ اس حادثے نے اب خلیجی ممالک میں لیبر سیفٹی کے نفاذ پر ایک نیا بحث چھیڑ دی ہے۔

براہِ راست جوابات اور اکثر پوچھے گئے سوالات

1. ریاض فیکٹری آتشزدگی میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں صوفہ فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 بنگلہ دیشی مزدور جاں بحق ہوئے۔

2. حادثہ ریاض کے کس علاقے میں پیش آیا؟

یہ حادثہ ریاض کے الصِفا (Al-Safa) ضلع کے صنعتی علاقے میں واقع ایک غیر قانونی فرنیچر فیکٹری میں پیش آیا۔

3. کیا فیکٹری رجسٹرڈ تھی؟

سعودی سول ڈیفنس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق وہ فرنیچر سازی کی جگہ غیر لائسنس یافتہ تھی۔

4. بنگلہ دیشی حکومت کا اس حادثے پر کیا ردعمل ہے؟

بنگلہ دیشی وزارت خارجہ اور وزیر اوورسیز ویلفیئر عریف الحق چوہدری نے میتوں کی جلد وطن واپسی اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

رائے کا اظہار کریں

کیا خلیجی ممالک میں غیر رجسٹرڈ فیکٹریوں میں کام کرنے والے تارکینِ وطن کے تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین بنائے جانے چاہئیں؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

By M Muzamil Shami

ایم مزمل شامی اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو کے بانی، مصنف اور نیوز رائٹر ہیں۔ انہوں نے صحافت، شوبز اور بین الاقوامی خبریں کور کرنے میں کئی سال کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم مزمل شامی کا مقصد قارئین کو تازہ ترین، مستند اور دلچسپ خبریں بروقت فراہم کرنا ہے۔ وہ نہ صرف خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ تحریر اور تجزیے کے ذریعے قارئین کو گہرائی میں معلومات پہنچانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہر عمر اور دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے موزوں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے