تہران، ایران — اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو
ایران میں تقریباً تین ہفتوں سے جاری وسیع انٹرنیٹ بندش کے بعد اب کچھ صارفین کے لیے محدود انٹرنیٹ بحال ہونے کے آثار سامنے آئے ہیں، لیکن ملک بھر میں رابطے کا نظام اب بھی مکمل طور پر جاری نہیں ہو سکا ہے۔ ایران نے 8 جنوری 2026 کو احتجاجات کے دوران حکومت مخالف خبروں اور معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ خدمات تقریباً مکمل طور پر معطل کر دی تھیں، جس کے بعد اب چند خاص علاقوں میں محدود سطح پر آن لائن رابطے کی اجازت دی جا رہی ہے تاہم دنیا بھر تک رسائی اب بھی بہت محدود ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی متاثر کی ہے بلکہ کاروباری، اقتصادی اور صحافتی رابطوں پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔
اہم نکات:
- ایران میں طویل انٹرنیٹ بندش کے بعد اب کچھ صارفین کے لیے محدود کنیکٹیویٹی بحال ہوئی ہے، لیکن مکمل رسائی نہیں۔
- بین الاقوامی نگرانی گروپس کے مطابق انٹرنیٹ کا بلیک آؤٹ اب بھی سخت پابندیوں میں جاری ہے۔
- حکومت اور کاروباری حلقوں میں انٹرنیٹ بحالی کے اقتصادی اور سماجی اثرات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
- انسانی حقوق کے گروپس انٹرنیٹ بندش کو اطلاعات کے بہاؤ پر سنگین پابندی قرار دیتے ہیں۔
ایران میں کیا ہوا؟
8 جنوری 2026 کو ایران کے اندر خلاف حکومت احتجاجات کے تناظر میں وفاقی سطح پر انٹرنیٹ سروس تقریباً مکمل طور پر معطل کر دی گئی تھی۔ کئی نگرانی اداروں کے ڈیٹا کے مطابق ملکی انٹرنیٹ ٹریفک میں شدید کمی واقع ہوئی، جبکہ موبائل انٹرنیٹ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور بین الاقوامی خدمات تک رسائی انتہائی محدود ہو گئی۔ لاکھوں شہری اپنے رشتہ داروں اور کاروباری رابطوں سے منقطع ہو گئے تھے۔
انٹرنیٹ پر پابندی نے نہ صرف عوام کو اندرونی اور بیرونی معلومات تک رسائی سے محروم کیا بلکہ صحافتی رپورٹنگ اور آزاد ذرائع ابلاغ کے کام کو بھی شدید طور پر متاثر کیا۔ بین الاقوامی فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے کہا کہ ان پابندیوں نے عوام کو سچائی تک رسائی سے روک دیا ہے اور صحافت کے بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
عوامی ردعمل اور سرکاری موقف
ایرانی عوام نے انٹرنیٹ بندش کے فیصلے پر شدید ناراضگی ظاہر کی اور معاشی و سماجی زندگی پر اس کے منفی اثرات کی طرف اشارہ کیا۔ ایک تہران کے باشندے نے کہا، “ہماری روزمرہ ضروریات سے ہم محروم ہیں، معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوا بلکہ خیالات کا تبادلہ بھی رکا ہوا ہے۔”
دوسری جانب حکومت کا موقف رہا ہے کہ یہ بندش احتجاجات کے دوران “امن و امان” برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھی۔ ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ بیانات کے مطابق حکومت کا دعویٰ رہا کہ انٹرنیٹ کنٹرول کرنا “سلامتی کے لیے ضروری” تھا، اگرچہ وہ مکمل بحالی کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دے سکے۔
کیوں یہ اہم ہے؟
انٹرنیٹ پابندی صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، اظہار رائے، آزادی اطلاعات اور معیشت پر گہرے اثرات رکھتی ہے۔ ایران میں انٹرنیٹ کے بغیر جاتنے کاروباری روابط نہ صرف سست روی کا شکار ہیں بلکہ روزگار چینلز، آن لائن بینکاری اور تجارت بھی شدید نقصان اٹھا رہی ہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق انٹرنیٹ بندش سے روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس نے پہلے سے کمزور معیشت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔
“ڈیجیٹل رسائی کسی بھی معاصر معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اس کے بغیر روزمرہ زندگی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے,” ایک ماہر معاشیات نے نامہ نگاروں کو بتایا۔
ماضی کے مشابہ واقعات
ایرانی حکومت نے گزشتہ برسوں میں بھی متعدد بار انٹرنیٹ پابندیوں کا سہارا لیا ہے، خاص طور پر 2019 اور 2022 کے بڑے احتجاجات کے دوران۔ تب بھی انٹرنیٹ کا استعمال روک کر احتجاجی تحریکوں کی خبروں کو روکا گیا تھا، لیکن موجودہ بندش کی مدت اور سختی قابلِ ذکر ہے۔
نتیجہ: آئندہ کیا ہو گا؟
ماہرین کا خیال ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بحال ہو جائے گا، لیکن یہ ممکن ہے کہ حکومت کچھ خدمات اور پلیٹ فارمز کو محدود رکھے۔ حکومت نے پیچیدہ مرحلوں میں بحالی کی بات کی ہے، جس میں پہلے مقامی خدمات، پھر قومی انٹرنیٹ اور آخر کار بیرونی کنیکٹیویٹی شامل ہے۔ تاہم عمومی آزاد رسائی کے لیے اب بھی طویل وقت درکار ہوگا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1. ایران میں انٹرنیٹ کب بند ہوا؟
ایران میں انٹرنیٹ 8 جنوری 2026 کو ملک گیر احتجاجات کے دوران بند ہو گیا، جس نے لاکھوں شہریوں کو بیرونی دنیا سے منقطع کر دیا۔
2. کیا انٹرنیٹ مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے؟
نہیں، ابھی صرف کچھ علاقوں میں محدود رابطے بحال ہوئے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر مکمل رسائی نہیں ہے۔
3. انٹرنیٹ بندش کے اقتصادی اثرات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق بندش سے روزانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس سے معیشت کو سخت دھچکا لگا ہے۔
4. حکومت نے انٹرنیٹ بندش کیوں کی؟
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے احتجاجات کی خبروں اور تشدد کی معلومات کے پھیلاؤ کو روکا گیا، تاکہ “امن و امان” برقرار رکھا جا سکے، تاہم ناقدین نے اسے آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا ہے۔
5. عوام کیا چاہتے ہیں؟
عوام آزاد انٹرنیٹ، معلومات تک رسائی، کاروبار اور روز مرہ رابطوں کی بحالی چاہتے ہیں، جس کے لیے احتجاجات جاری ہیں۔
تفصیل کے ساتھ تازہ ترین خبریں اور تجزیے کے لیے اسٹار اسٹرک ٹائمز اردو پر پوری رپورٹ پڑھیں۔
ذرائع
- Chatham House
- Al Monitor
- NetBlocks
- IFJ






